Friday , August 18 2017
Home / مضامین / قاری ایم ایس خان

قاری ایم ایس خان

گائے ذبیحہ یا تحفظ گائے سے متعلق چند کھری کھری باتیں
سیاست کے بازیگر، سیاست کے جادوگر اور سیاست بازوں نے بیحد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ گائے کشی اور گائے کی حفاظت (گاؤ ہتیا اور گاؤ رکشا) کے مسئلہ کو ایک بار پھر بہت تیزی و سختی سے اچھالا ہے ، حالانکہ ’’ گاؤ ہتیا ‘‘ اور ’’گاؤ رکشا‘‘ دونوں میں بڑا فرق ہے جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ کسی جانور کو بلا ضرورت قتل کرنے کیاجازت ہی نہیں دیتا ، خدا کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں چھوٹے پرندوںکو قید رکھنا، گھونسلوں کو اجاڑنا اور جانوروں کو آپس میں لڑا کر تماشہ دیکھنا بھی ناپسندیدہ بتلایا گیا اور قرآن کریم نے کسی بھی جان کوناحق قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے اس مسئلہ کو تحفظ گائے یا ہندی زبان میں ’’گاؤ رکشا‘‘ کہنا مناسب ہوگا۔
’’گاؤ ہتیا‘‘ کا لفظ یعنی گائے کا قتل عام جب ہم بولتے ہیں تو گائے کا گوشت کھانے کھلانے والوں کی ایک بھیانک تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے جو ہمارے دل و دماغ میں نفرت اور حقارت پیدا کرتی ہے لیکن اگر ہم تحفظ گائے کا لفظ استعمال کریں تو اس کام میں وہ لوگ بھی ہمارے ساتھ آنا شروع ہوں گے جو گائے کا گوشت کسی ضرورت یا اجازت کے سبب کھائے اور کھلاتے ہیں۔

تحفظ گائے ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر نہایت ہی ٹھنڈے دماغ اور پوری سوجھ بوجھ کے ساتھ غور کیا جانا چاہئے۔ اس مسئلہ کا تعلق صرف مسلم قوم سے نہیں ہے بلکہ ہمارے ہندو بھائیوں اوران کے مذہبی جذبات سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمارے ملک کی بہت سی چھوٹی بڑی اکائیاں حق میں اور برادریاں حتیٰ کہ خود ہماری حکومت اور اس کی انتظامی مشنری بھی اس مسئلہ سے متعلق ہے ، اس واضح حقیقت کے باوجود جب گائے کے بارے میں کوئی بات ہوتی ہے تو الزام صرف مسلمانوں کے سر آتا ہے ۔ یہ ایک قابل تشویش بات ہے ۔ مسلمانوں سے کئی زائد تعداد میں دوسری قوموں کے کروڑوں لوگ گائے کا گوشت کھانے کھلانے میں بہت بڑے حصہ دار اور شریک ہیں۔ مثلاً بدھ مدہب کے لوگ ، ہمارے ہریجن بھائی ، عیسائی ، پارسی ، ساؤتھ انڈین ، بھیل ، کورکو ، ماڈیا ، گونڈ ، گورکھے ، ادی واسی ، ناگا قبائلی چمار، بھنگی اور دوسرے وہ ہندو بھائی اور عریب مزدور جو مجبوری اور غربت سے گائے کا گوشت کھلاتے ہیں ، سرکس والے اپنے جنگلی جانوروں کو گائے کا گوشت ہی کھلاتے ہیں۔ مسلمان جتنا گوشت کھاتے ہیں اس کا بیس گنا گوشت تو یہ سب لوگ کھا جاتے ہیں۔
ہمارے اس ملک میں اور ملک کے باہر کی منڈیوں میں ہڈیوں کی تجارت اور خاص طور سے ذبح کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے بہت قیمتی مانے جاتے ہیں ۔ اس کے کارخانے ، جوتے کی فیکٹریاں باٹا کمپنی نیز چمڑے کی ہٹیاں ، پاکٹ ، بیلٹ ان تمام کے کارخانے چلانے والے سب مسلمان نہیں بلکہ زیادہ تعداد میں غیر مسلم لوگ ہی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹل جس کے چلانے میں حکومت کا بی حصہ ہے ، وہاں بڑے پیمانے پر گائے کا گوشت پکا کر بیچا اور کھلایا جاتا ہے۔ کیا یہ سب مسلمان ہیں، ہوائی جہاز کے سفرمیں ہوائی کمپنیاں بھی میزبان لڑ کیوں کے توسط سے مسافروں کو گائے کا گوشت کھلاتی ہیں ، ملک ہند سے گائے کا گوشت ایکسپورٹ ہوکر دوسرے ملکوں میں بھی بھیجا جاتا ہے ۔ اس تجارت سے ہندو تاجرین کروڑوں روپئے کماتے ہیں ۔ کاف لیدر Calf Leather جو بچھڑے کا چمڑا ہے ، اسے بھاری قیمت پر بیرون ملک بھیجا جاتا ہے ، اس کاروبار میں بھی ایک بھی مسلمان نہیں۔ مشینی قتل کے جانوروں کا گوشت مسلمان ہرگز نہیں کھاتا پھر یہ کون لوگ ہیں جو یہ گوشت کھاجاتے ہیں۔ مسلمان صرف حلال طریقہ سے حاصل کیا ہوا اور اجازت دیئے ہوئے جانور کا گوشت کھاتا ہے۔
شاطر ، خود غرض ، مفاد و مطلب پرست ، عیار و مکار ، حاسد ، مقد اور منافق سیاسی لوگ تحفظ گائے کے مسئلہ کو اپنے طور پر اچھال کرایک طویل عرصہ سے اپنا کرتب دکھاتے رہے ہیں لیکن سنجیدہ سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے انہیں کبھی کوئی اہمیت نہیں دی۔
جو لوگ تحفظ گائے کے معاملے میں مذہبی جذبات اور احساسات رکھتے ہیں، وہ ایک ایک ناکارہ گائے کو جو دودھ نہیں دیتی ، اپنے گھر پرورش کرنے کا تہیہ کریں اور یہ حلف لیں کہ وہ کسی قیمت پر اسے نہ بیچیں گے تاکہ ناکارہ جانور بکنا بند ہوں۔ یہ کام مذہبی عقیدے کے اعتبار سے صرف ہمارے ہندو بھائی ہی کرسکتے ہیں اور انہی کی مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔

سب سے پہلے حکومت اپنے مشینی قتل خانے فوراً بند کرے۔ جوتے ، چپل ، بیگ، ٹوپی ، بیلٹ ، پرس ، پاکٹ اور چمڑے وغیرہ کے کارخانوں میں جو مزدور کام کرتے ہیں ، ان کے ہرجانے پر غور کیا جائے اور انہیں دوسرا کام دلانے کے بارے میں بھی منصوبے بنائیں جائیں۔ (ممکن العمل)
ہندو مذہبی رہنما عام ہندو بھائیوں میں گوشت خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکیں اور اپنا مذہبی اثر و رسوخ اورحکم استعمال کریں تاکہ جن لوگوں کیلئے گوشت کھانا مذہبی نقطہ نظر سے جائز ہے ، انہیں یہ غذا سستے داموں حاصل کرنے میں دقت نہ ہو اور گائے کا گوشت کھانے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے ۔ چمڑے کے بیوپاریوں اور کارخانوں پر بھی پابندی لگائیں۔ ہندو مذہب کے پنڈتوں پر لازم ہے کہ جو لوگ ہندو ہوکر بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور ہندو مذہب پر ہوتے ہوئے بھی ملک کے بیشتر و سرحدی علاقوں میں لاتعداد گائے کو کٹنے کیلئے بیچتے ہیں۔ ان کا سماجی بائیکاٹ ہونا چاہئے ۔ یہ مذہبی قدم اٹھانا ہندو مذہبی عالموں ، شنکر اچاریوں اور پنڈتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مذہبی طاقت کا استعمال کر کے گائے کا گوشت کھانے کی اس روش کو جو خود ہندو بھائیوں کے درمیان جاری ہے ، پو ری طاقت سے روکیں اور ایسے لا مذہبوں کو پنے سماج میں ہرگز برداشت نہ کریں، اگر ہندو مذہب میں ایسا کرنا واقعی پاپ ہے۔
شمالی ہند میں گائے کا مسئلہ ایک مدت طویل سے وجہ نزاع اور باعث کشاکش بنا ہوا ہے ۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ یہ خالص مذہبی مسئلہ ہے لیکن اگر ذرا گہری نظر سے تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسئلہ کی نوعیت مذہبی سے زیادہ سیاسی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ سیاسی کھلاڑیوں نے نہایت ہوشیاری اور چالاکی سے اپنے سیاسی مفاد اور مطلب براری کیلئے اسے ذریعہ بنایا ہے اور ہمیشہ سیاسی استحصال کیلئے اسے کامیاب حربہ بنایا گیا۔ لہذا انسانیت کے بہی خواہ ، ملک کے دوست اور ہندو و مسلم مخلص سیاسی و مذہبی قائدین سنجیدگی کے ساتھ گائے ذبیحہ کے مسئلہ کو حل کریں ، ممکن العمل و افادیت بخش اقدامات کریں۔ مذہب کی صحیح پیروی کا جذبہ رکھنے والے مذہبی رہنماؤں، ملک کے سربراہ کاروں اور حقیقی دانشوروں (خود ساختہ قطعی نہیں) کا فرض ہے کہ وہ سلامت روی کے ساتھ اس مسئلہ کو سمجھیں، سیاسی اغراض کے لئے مذہب کو ہرگز استعمال نہ ہونے دیں اور سیاست بازوں کے سیاسی استحصال سے اپنے آپ کو اور برادران وطن کو محفوظ رکھیں۔ بقول شاعر ؎
کوئی مرحلہ ہو کوئی معرکہ ہو
نظر عارفانہ قدم غازی یانہ

TOPPOPULARRECENT