Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / قاضیوں کو طلاق اور خلع جیسے حساس مسائل پر شریعت اسلامی کی پابندی کرنے کا مشورہ

قاضیوں کو طلاق اور خلع جیسے حساس مسائل پر شریعت اسلامی کی پابندی کرنے کا مشورہ

غیروں کے لیے مذاق کا موضوع نہ بنایا جائے ، چیرمین تلنگانہ وقف بورڈ الحاج محمد سلیم
حیدرآباد۔ 8مئی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے قاضیوں کو مشورہ دیا کہ وہ طلاق اور خلع جیسے حساس مسائل پر شریعت اسلامی کی پابندی کریں تاکہ غیروں میں یہ مسائل مذاق کا موضوع نہ بنیں۔ نائب قاضیوں کے ایک وفد نے آج وقف بورڈ میں صدرنشین سے ملاقات کی اور اپنے مسائل کی یکسوئی کے لیے یادداشت پیش کی۔ اس موقع پر محمد سلیم نے مسائل کی یکسوئی کا تیقن دیتے ہوئے موجودہ صورتحال میں طلاق ثلاثہ پر جاری تنازعہ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں قاضی حضرات اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ زائد رقم حاصل کرتے ہوئے طلاق و خلع کو انجام دینے سے تنازعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ قاضیوں کو کم سے کم 6 ماہ کا وقت لے کر فریقین میں کونسلنگ کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ مسلمانوں کے گھر ٹوٹنے سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کے مسئلہ پر اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہیں اور شریعت اسلامی پر نکتہ چینی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت اسلامی سے انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور قاضیوں کو اپنی ذمہ داری کی تکمیل کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ زائد رقم حاصل کرکے قاضی طلاق کو نافذ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے میں طلاق اور خلع کے رجحان کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں قاضی صاحبان اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے تحفظ شریعت کے سلسلہ میں مہم چلائی جارہی ہے۔ قاضیوں کو بھی اس مہم سے وابستہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے قاضیوں کو مشورہ دیا کہ وہ نکاح کے سلسلہ میں من مانی فیس حاصل کرنے سے گریز کریں۔ قاضیوں کے وفد نے شکایت کی کہ حکومت کی جانب سے تقرر کے باوجود قلعہ محمد نگر کے نائب قاضی ان کے حدود میں مداخلت کررہے ہیں اور کئی تقاریب میں جھگڑے کی نوبت آرہی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اس سلسلہ میں فریقین کے ساتھ اجلاس طلب کرنے اور سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو صورتحال سے واقف کرانے کا تیقن دیا۔ اسی دوران وقف بورڈ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے دو خصوصی پروٹیکشن ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں کے لیے دو نئی بولیرو گاڑیاں حاصل کی گئیں جن کے ذریعہ یہ ٹیمیں کسی بھی جائیداد پر ناجائز قبضے کی اطلاع ملتے ہی فوری پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پروٹیکشن ٹیموں کو متحرک کرتے ہوئے غیر مجاز قبضوں کو برخاست کیا جاسکتا ہے۔ ان ٹیموں کو اوقافی جائیدادوں کے کرائے حاصل کرنے کی ذمہ داری بھی دی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر اور اضلاع میں وقف بورڈ کو کروڑہا روپئے کے کرائے واجب الادا ہیں اور کرائے دار مقامی انسپکٹر آڈیٹر کی ہدایات ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ اگر کرایہ جات مقررہ وقت پر وصول کئے جائیں تو ماہانہ وقف بورڈ کو کئی کروڑ روپئے کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ کرایوں میں اضافے کے لیے رینٹ ریویو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن یہ کمیٹی بھی غیر متحرک ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT