Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / قاضی گند فائرنگ پر فوج کی معذرت خواہی ،انکوائری کا حکم

قاضی گند فائرنگ پر فوج کی معذرت خواہی ،انکوائری کا حکم

ایک زخمی خاتون کی موت کیساتھ مہلوکین کی تعداد 42 ہوگئی،کشمیر میں کرفیو برقرار، علیحدگی پسندوں کے بند میں جمعہ تک توسیع

سرینگر ، 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک خاتون جو جنوبی کشمیر میں سکیورٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہوئی تھی، اسپتال میں جانبر نہ ہوسکی، جس کے ساتھ جاریہ بدامنی میں مہلوکین کی تعداد 42 ہوگئی جبکہ آج بھی وادی میں کرفیو برقرار ہے۔ نیلوفر گزشتہ روز ضلع اننت ناگ کے قاضی گند میں آرمی کی گاڑی پر احتجاجیوں کی سنگباری کے جواب میں کی گئی فائرنگ میں زخمی ہوئی تھی ۔ اُس واقعہ میں دو دیگر افراد بشمول ایک خاتون ہلاک ہوئے اور سات دیگر کو زخم آئے۔ ایک پولیس ترجمان نے اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آرمی کی موبائل ڈامنیشن پٹرول پارٹی نے دیوسر جاتے ہوئے چورہٹ قاضی گند میں بعض لوگوں کی جانب سے سڑک پر کھڑی کی گئی رکاوٹ کو ہٹانے کی کوشش کی۔ رکاوٹوں کو ہٹانے والی سکیورٹی فورس پارٹی پر دو طرف سے شرپسندوں نے بھاری سنگباری شروع کردی۔ آرمی پارٹی نے ہجوم کو دور رہنے کا انتباہ دیا لیکن وہ مُصر تھا۔ بعض شرپسندوں نے آرمی پارٹی سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی اور گاڑیوں کو جلا دینا چاہا۔

بار بار وارننگ کے باوجود ہجوم منتشر نہیں ہوا اور آرمی نے اپنے دفاع میں فائرنگ کردی جو وہاں سے نکلا جاسکے۔ اس واقعہ میں چھ افراد کو زخم آئے جن میں سے دو کل رات جانبر نہ ہوئے۔

اس دوران آرمی نے قاضی گند کے فائرنگ واقعہ پر آج ’’گہرے تاسف‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے معذرت خواہی کی اور اس کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اس واقعہ میں جملہ تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ڈیفنس کے ترجمان نے یہاں کہا کہ آرمی کو قاضی گند واقعہ میں بدبختانہ جانی نقصان پر گہرا افسوس ہے۔ اور اس واقعہ کے غمزدہ خاندانوں اور زخمیوں کو تمام تر ممکنہ اعانت فراہم کی جائے گی۔ دریں اثناء کرفیو وادی کے 10 اضلاع میں بدستور لاگو ہے کیونکہ احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان مہلک جھڑپیں ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ یہ جھڑپیں 8 جولائی کو سکیورٹی فورسیس کے ساتھ انکاؤنٹر میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ عہدہ دار نے کہا کہ پولیس اور نیم فوجی دستے امتناعی احکام پر سختی سے عمل آوری کیلئے ساری وادی میں بھاری تعداد میں متعین ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وادی میں ابھی تک کہیں سے تازہ تشدد کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ معمول کی زندگی بھی آج لگاتار 11 ویں روز مسلسل مفلوج ہے ، جس کا سبب علحدگی پسندوں کی زیرسرپرستی جاری ہڑتا ل ہے جسے اب 22 جولائی تک توسیع دی گئی ہے۔ ایک مشترک بیان میں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وادی میں بند جمعہ 22 جولائی تک جاری رہے گا۔ تاہم انھوں نے 21 جولائی کو دوپہر 2.00 بجے سے نصف یوم کی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ موبائل ٹیلی فون اور موبائل انٹرنٹ کی خدمات بھی ہنوز بند ہیں جبکہ اخبارات لگاتار چوتھے روز بازار تک نہیں پہنچائے جاسکے ہیں۔
کشمیر میں تشدد:انسانی حقوق کمیشن کی نوٹس
نئی دہلی۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) قومی انسانی حقوق کمیشن نے آج ریاست جموں و کشمیر میں جاری تشدد کے سلسلے میں وزارت داخلہ اور حکومت جموں و کشمیر کو نوٹس جاری کی۔ انہیں اندرون دو ہفتے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیشن نے جموں و کشمیر میں احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے مابین جھڑپوں کے علاوہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے بارے میں میڈیا کی اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے یہ نوٹس جاری کی ہے۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ عسکریت پسند برہان وانی کی 8 جولائی کو سکیورٹی فورسیس کے ہاتھوں انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد پیدا شدہ صورتِ حال اور تشدد کے واقعات پر کمیشن کی نظر ہے۔ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن نے مرکزی معتمد داخلہ اور چیف سیکریٹری جموں و کشمیر کو نوٹس جاری کی اور انہیں اندرون دو ہفتے جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT