Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / قانون سازی میں حکومت اور علماء کرام کے مخلصانہ اشتراک کی اختر الواسع کی اپیل

قانون سازی میں حکومت اور علماء کرام کے مخلصانہ اشتراک کی اختر الواسع کی اپیل

نئی دہلی۔ 22 اگسٹ(سیاست ڈاٹ کام)ماہر اسلامیات پروفیسر اختر الواسع نے طلاق بدعت یعنی کھڑے کھڑے تین طلاق دینے کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے آج حکومت پر زور دیا کہ وہ مسلم رہنماوں خصوصی طور پر علما کے سرگرم مشورے سے قانون سازی کا قدم اٹھائے ۔پروفیسر واسع نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس لحاظ سے بھی دانشمندانہ ہے کہ اس نے کسی کے مذہبی معتقدات میں کسی مداخلت سے کام نہیں لیا اور ملک کے جمہوری کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ طلاق ثلاثہ پر صرف چھ ماہ کے لئے حکم موقوفی تک محدود رکھا نیز پارلیمنٹ سے سفارش کی ہے کہ وہ قانون سازی کرے ۔مولانا آزاد یونیورسٹی(جودھپور)کے وائس چانسلر نے کہا کہ آج کے عدالت عظمی کے فیصلے کے ساتھ حکومت کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے کہ وہ جمہور کے مشورے سے قانونسازی کا قدم اٹھائے اوراس محاذ پر آج بھی مسلمانوں کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو محوری حیثیت حاصل ہے ۔انہوں نے بورڈ کے ذمہ داران پر اس بات کے لئے زور دیا کہ وہ اس موقع کو ملت کی نمائندگی کے لئے بہترین موقع سمجھتے ہوئے ایک جامع قانونی مسودہ حکومت کو پیش کریں اور قانون سازی کی راہ میں سرگرم اشتراک سے کام لیں تاکہ اسلام کی روح کے مطابق مسلمانوں کی عائلی زندگی رواں دواں رہے اور ’’ہماری ماں بہنیں ہوس پرستوں کا شکار ہونے سے بچیں‘‘۔پروفیسر واسع نے حکومت سے بھی کہا کہ کہ وہ قانون سازی کے معاملے میں ملت اسلامیہ ہند کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی قدم نہ اٹھا ئے ۔ بصورت دیگر مسلمانوں کی بے اعتمادی قانون پر عمل کی راہ دشوار کر سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT