Sunday , April 23 2017
Home / شہر کی خبریں / قانون ساز کونسل میں فاروق حسین کی شعر و شاعری، ماحول زعفران زار

قانون ساز کونسل میں فاروق حسین کی شعر و شاعری، ماحول زعفران زار

شادی مبارک اسکیم پر بحث، اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر چیف منسٹر کی خوب تعریف

حیدرآباد۔26ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ایوان قانون ساز کونسل میں جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل نے شعر و شاعری کے ذریعہ ماحول کو زعفران زار کردیا۔ انہوں نے ’شادی مبارک اسکیم ‘ پر مختصر مدتی مباحث کے دوران کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ تڑپتا ہوا دل رکھنے والے ہمدرد انسان ہیں جن کی وجہ سے ریاست میں شادی مبارک اسکیم مؤثر انداز میں چلائی جا رہی ہے ۔جناب فاروق حسین نے کہا کہ ریاست میں مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے حکومت کی جانب سے51ہزار روپئے دیئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے غریب خاندانوں کو بھاری مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران شعر کہا کہ
مت پوچھو میرا کاروبار کیا ہے
محبت کی دکان ہے نفرت کے بازار میں
جناب فاروق حسین نے کہا کہ جس وقت کانگریس نے اس اسکیم کو شروع کیا تو اس کا فائدہ درمیانی افراد کو بہت ہو رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ راجیو گاندھی کہا کرتے تھے کہ وہ دہلی سے ترقی کیلئے ایک روپیہ بھیجتے ہیں تو گاؤں تک صرف 15پیسے پہنچتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے دور میں چلائی جانے والی اجتماعی شادیوں کی اسکیم کا بھی یہی حال تھا اور جس وقت اسکیم میں شادی کیلئے 15ہزار روپئے جاری کئے جاتے تھے اس وقت نو شادی شدہ جوڑے کو صرف 8تا10ہزار روپئے کا ہی سامان ملا کرتا تھا۔ انہوں نے اس دور میں اسکیم میں پائی جانے والی خامیو ںکا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت نے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے 51ہزار روپئے راست لڑکی کے والدین کو بذریعہ چیک دینے کا فیصلہ کیا جس کے سبب اسکیم میں بدعنوانیاں ختم ہو گئیں۔ جناب فاروق حسین نے بتایاکہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نہ صرف غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے متعلق اقدامات کر رہے ہیں بلکہ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والی مسلم لڑکی سلوی فاطمہ کی پائلٹ بننے کی خواہش کو بھی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پورا کیا۔ جناب فاروق حسین نے بتایا کہ بیکری ملازم کی لڑکی کی اس خواہش کے متعلق جب انہیں اطلاع ملی تو انہوں نے چیف منسٹرسے اس سلسلہ میں نمائندگی کرتے ہوئے خواہش کی تھی کہ خصوصی طور پر اس لڑکی کی مدد کی جائے جس پر چیف منسٹر نے فی الفور احکام جاری کرتے ہوئے سلوی فاطمہ کے اخراجات سرکاری طور پر ادا کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے چیف منسٹر سے اپنی دیرینہ رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کالج کے زمانے سے کے سی آر کے ساتھی رہے ہیں۔ انہوں نے1987کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب کے سی آر سدی پیٹ رکن اسمبلی تھے اس وقت ایک مسلم بہن نے اپنی لڑکی کی شادی کیلئے مدد طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ داماد کو سیکو کی دستی گھڑی اور اٹلس کی سائیکل دینی ہے اس وقت مسٹر کے سی آر نے 1000روپئے کی ان اشیاء کے لئے مدد کی تھی اور اسی وقت سے غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد کی منصوبہ بندی میں تھے اور اب جب اقتدار حاصل ہوا ہے تو ایسی صورت میں شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ مؤثر انداز میں غریب مسلم لڑکیوں کی مدد کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT