Friday , June 23 2017
Home / اداریہ / قانون و انصاف

قانون و انصاف

کتنے بدبخت ہیں اوقات بدل دیتے ہیں
اپنے مطلب کے لئے بات بدل دیتے ہیں
قانون و انصاف
ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے 24 سال گذر جانے کے بعد ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے ابوسالم کے بشمول 6 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا۔ ٹاڈا عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ممبئی سلسلہ وار دھماکہ ڈسمبر 1992ء میں ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے انتقام میں کروائے گئے تھے۔ بابری مسجد شہادت کے بعد ہندوستان کے سیکولر کردارکو ضرب پہنچانے والے سلسلہ وار واقعات ہنوز جاری ہیں۔ ممبئی کے سلسلہ وار دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے اور 713 زخمی بتائے گئے۔ اس سے پہلے مسلم کش فسادات میں 1000 سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا۔ فسادات کے ملزمین کو انصاف کے کٹھہرے میں لانے میں ناکام قانون نے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے ملزمین کو قصوروار قرار دیدیا ہے۔ ابوسالم اور مصطفی دوسا کو قصوروار قرار دے کر صرف رولنگ دینے سے ملک میں نفرت کی رکھی گئی بنیاد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس ان دھماکوں کے اصل ملزمین داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن تک پہنچ نہیں پائی لیکن ان 24 برسوں میں ہندوستان کا فرقہ وارانہ کردار شدید مسخ ہوا ہے۔ 2002ء کے بعد سے کسی بھی وقت کہیں بھی کچھ بھی ہونے کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔ آخر یہ بم دھماکے کیوں ہوئے اس کا عمیق جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بم دھماکوں نے خود کو سیکولر ہندوستان کے سامنے ایک وقت کا آئینہ بن کر پیش کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے 2013ء کے فیصلہ میں بم دھماکہ کے دیگر کئی ملزمین کی سزاء کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ممبئی فسادات و سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد جسٹس بی این کرشنا کی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ اور سفارشات کو کوڑے دان کی نذر کرنے والی سیاسی لوگوں نے اس ملک کو تشدد اور دہشت پسندانہ سرگرمیوں کے افراد کے نشانہ پر چھوڑ دیا۔ جنوری 1993ء کے مسلم کش فسادات نے ممبئی کی روزمرہ زندگی کی کیفیت ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ مذاہب کو باہم متصادم کرنے والے مجرمانہ ذہنیت کے حامل سیاستدانوں نے ان 24 برسوں میں زبردست سیاسی فائدہ حاصل کیا ہے۔ مرکز میں آج جو کچھ دکھائی دے رہا ہے اسی نفرت پر مبنی سیاسی پروپگنڈہ مہم کا نتیجہ ہے۔ کل تک یہ بات عوام الناس کو واضح نظر نہیں آرہی تھی لیکن آج ہندوستان کو ایک فرقہ وارانہ نفرت و تشدد کی سرزمین میں منتقل کردیا گیا ہے۔ 1992ء سے لیکر آج تک ملک میں ہندو اور مسلمان دونوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کو ہوا دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔ ایسے میں دہشت گردوں کا کام آسان ہوتا گیا۔ بیرون ملک دہشت گرد اور اندرون ملک دہشت گرد دونوں نے انتقامی کارروائیوں کو ایسی ہوا دی ہے کہ ملک کا سیکولر تانا بانا بری طرح بکھر کر رہ گیا ہے۔ 2002ء کے گجرات فسادات کے باعث ہی مسلم دہشت گردی اور ہندو دہشت گردی کی اصطلاح میں معاشرہ کی تقسیم عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔ ایک طرف مجاہدین گروپ کو تشکیل دیا گیا تھا تو دوسری طرف ابھینو بھارت جیسے گروپ وجود میں لائے گئے۔ اس کے بعد نفرت پیدا کرنے والے عوامل کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی اقدار کو پامال کرنے والوں نے آج دستورہند پر حلف لیکر اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے تو ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے ملزمین کو عدالت کی جانب سے قصوروار قرار دینے یا انہیں سزاء دینے سے انصاف کا تقاضہ پورا نہیں ہوسکے گا۔ 1995ء کے فسادات کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے والے جسٹس سری کرشنا اور دیگر کمیشنوں کی رپورٹس و سفارشات کو نظرانداز کردینے کا نتیجہ یہ نکلا ہیکہ آج ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے والوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ کے کیس میں تحقیقات کرنے والی سی بی آئی نے دعویٰ کیا کہ 1998ء میں بابری مسجد شہادت کے انتقام میں یہ منصوبہ بندطریقہ سے دھماکے کئے گئے تھے مگر بابری مسجد شہادت کا سبب بننے والے واقعات اور اس کے خاطیوں کو نظرانداز کردینے کی ہی بھیانک غلطی ہی آج ہندوستان میں قانون واقعات پر ہندوستانی عوام کی ایک آبادی کے ایقان کو متزلزل کردیا ہے۔ ٹاڈا عدالت نے اپنے فیصلہ میں 6 ملزمین کو قصوروار تو قرار دیا مگر اب بھی اس کیس کے 33 ملزمین مفرور ہیں۔ ان میں اصل سازشی سمجھے جانے والے داؤد ابراہیم، انیس ابراہیم، ٹائیگر میمن اور مصطفی دوسا کو گرفتار نہیں کیا جاسکا اور نہ ان پر مقدمہ چلایا جاسکا۔ دیگر واقعات کے ملزمین کے ساتھ ایسا انصاف نہ کرنے ہی کو قانون و انصاف کا قتل قرار دیا جاتا ہے۔
وادی کشمیر میں امن کی یکطرفہ کوشش
وادی کشمیر میں ہر روز دہشت گرد حملے، فوج اور پولیس کے قافلوں کو نشانہ بنانے کے واقعات تشویشناک ہیں۔ ایک ایسے ہی حملے میں 6 پولیس ملازمین دو شہری اور دو دہشت گردوں کے بشمول 10 افراد ہلاک ہوئے۔ دہشت گرد تنظیم لشکرطیبہ نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔ حالیہ وقتوں میں پولیس پر ہلاکت خیز حملے ہوئے ہیں۔ ایک طرف فوج اپنی کارروائیوں کو خاص کر فوجی جیپ پر انسان کو باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو حق بجانب قرار دیتی ہے اور ایسی حرکت کرنے والے فوجی جوان کو انعام سے نوازا جاتا ہے تو یہ عمل امن دشمن طاقتوں کیلئے مزید اشتعال انگیزی برپا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔ وادی کشمیر میں امن بحال کرنے کی کوششوں اور اقدامات کے دعوؤں کے درمیان پولیس فورس اور فوج کے علاوہ شہریوں کی جانیں محفوظ نہ ہوں تو پھر یہ تمام دعوے فضول ثابت ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک میں تشدد نہ کرنے کشمیری شہریوں کے ایک گروپ کی درخواست کو نظرانداز کردیا گیا۔ 1990 کے بعد سے کشمیر کو بدامنی کا شکار بنانے والے عوامل کو ختم کرانے کی ہرگز نیک نیتی سے کوشش نہیں کی گئی۔ حکومت ہند اور ریاستی حکومت دونوں سے کشمیری عوام کی امن پسند اکثریت اپیل کرتے آرہی ہیکہ سیکوریٹی فورسیس کو صبروتحمل سے رہنے کی ہدایت دی جائے مگر یکطرفہ امن کی کوششوں میں اب تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ اس لئے وادی کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے باہمی کوششوں کی ضرورت ہے۔ وادی میں دہشت گردی اور انتہاء پسندانہ سرگرمیوں کی وکالت کرنے والی طاقتوں کے خلاف بنائے جانے والے محاذ اکثر ناکام ہی ہوئے ہیں۔ عیدالفطر تک وادی پُرامن بنانے کیلئے ضروری ہیکہ دونوں جانب صبروتحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT