Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / قانون کے بجائے آرڈیننس کی راہ اختیار کرنے پر انتباہ

قانون کے بجائے آرڈیننس کی راہ اختیار کرنے پر انتباہ

NEW DELHI, JULY 23 (UNI):- Prime Minister, Narendra Modi attends farewell ceremony of the President, Pranab Mukherjee, at Central Hall of the Parliament, in New Delhi on Sunday. UNI PHOTO-JA12U

قانون سازی سے پہلے مباحث کیلئے زیادہ وقت دیا جائے ، صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا وداعی تقریب سے خطاب

نئی دہلی ۔ /23 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے حکومت کو آرڈیننس کا راستہ اختیار کرنے کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ بعض ناگزیر حالات میں ہی ایسا کیا جانا چاہئیے اور مالیاتی امور میں بالخصوص اس سے گریز کرنا ضروری ہے ۔ پارلیمنٹ میں آج وداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے اپوزیشن سے یہ خواہش کی کہ ایوان کی کارروائی کو متاثر ہونے نہ دیں ۔ ایک گھنٹہ طویل اس تقریب میں نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری ، وزیراعظم نریندر مودی ، سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور ایچ ڈی دیوے گوڑا کے علاوہ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن ، صدر کانگریس سونیا گاندھی ، نائب صدر راہول گاندھی ، مرکزی وزراء ، سیاسی قائدین اور ارکان پارلیمنٹ شریک تھے ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ایسے معاملات میں جن پر غور و خوص کیا جارہا ہو یا جنہیں پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا ہو یا جو امور ایوان کی کمیٹی میں زیرغور ہوں ، آرڈیننس کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہئیے ۔ اگر ہنگامی نوعیت کا معاملہ ہو تو متعلقہ کمیٹی کو اس سے باخبر کیا جائے اور وہ مقررہ وقت کے اندر اپنی رپورٹ پیش کردے ۔ صدرجمہوریہ کا یہ ریمارک اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ نریندر مودی حکومت نے رقابتی جائیداد ایکٹ 1968 ء میں ترمیم کی گزشتہ 3 سال کے دوران متعدد کوششیں ناکام ہونے کے بعد 5 آرڈیننس نافذ کئے ۔ بل کو مارچ میں پارلیمنٹ نے منظوری دی ۔ انہوں نے قانون سازی کیلئے خاطر خواہ وقت نہ دینے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کوئی بھی قانون نافذ ہونے سے پہلے اس پر مباحث اور جانچ کیلئے ارکان کو زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے کسی حصہ کو بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی سے محروم نہیں کیا جانا چاہئیے ۔ پرنب مکرجی منگل کو صدرجمہوریہ کے عہدہ سے سبکدوش ہورہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT