Tuesday , October 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / قبرستان کا حکم

قبرستان کا حکم

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قبرستان جسکو حصار نہیں ہے اس بناء پر جانور قبرستان میںداخل ہوکر قبورپر چلتے ہیں اور بول وبراز کرتے ہیں ۔ اس کے انسداد کے لئے باجازت اوقاف بورڈ قبرستان کے کنارے کچھ ڈبّے قائم کئے گئے ہیں لیکن بعض حضرات اس کو قبروں کی بے حرمتی تصور کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں شرعا کیاحکم ہے  ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  قبرستان کی زمین مردوں کے دفن کے لئے وقف کی گئی ہے ۔ وہ بہرحال اسی غرض ومقصد کے لئے وقف رہے گی اور واقف کے شرائط ومقاصد کے خلاف عمل نص شارع کی خلاف ورزی متصور ہوگی ۔ اوقاف بورڈ کو قبرستان کی زمین پرڈبّے قائم کرنیکی اجازت دینے کا اختیار نہیں ہے اور اس کایہ فیصلہ ناقابل نفاذہے ان القضاء ینقض عندالحنفیۃ اذا کان حکما لادلیل علیہ وما خالف شرط الواقف فھومخالف للنص وھوحکم لادلیل علیہ سواء کان نصہ فی الوقف نصا اوظاہرا۔لہٰذا صورت مسئول عنہا میں قبرستان کی زمین پرسے ڈبّے برخواست کئے جائیں۔ اس زمین سے ہٹ کرڈبّے قائم کئے جاسکتے ہیں۔ اگر قبرستان کی حفاظت کرنے کاجذبہ ہے تو اس کے اطراف حصار قائم کردی جائے ۔
زوجہء متبنٰی کا مہر گود لینے والے پر نہیں
سوال : کیافرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے ایک لڑکے کومتبنٰی بنالیا اور اسکی پرورش وتعلیم وتربیت کی ۔ لڑکا باشعور ہونے کے بعد بکر کی اجازت کے بغیر اپنی شادی کرلی ۔ شادی کے بعد بھی یہ لڑکا اور اسکی بیوی بکر کے ہی زیر پرورش رہے۔ بعدہ اس لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے متروکہ میں کوئی اثاثہ نہیں ہے  ایسی صورت میں کیا مہرکی ادائی بکر کے ذمہ رہے گی  ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  صورت مسئول عنہا میں متبنیٰ کی بیوی کے زر مہر کی ادائی بکر پر واجب نہیں کیونکہ بکر مہرکا ضامن نہیں ہواتھا ۔ اگرچہ متبنیٰ مرحوم کے ترکہ میں کوئی اثاثہ نہیں ہے ۔ بہرحال دوسروں پر خـواہ وہ ولی ہو یا اجنبی جب تک ضامن نہ بنے مہرکی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ۔
گھریلو تنازعات کی بنا خلع طلب کرنا
سوال : کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ گھریلو تنازعات کی بناء اپنے شوہر سے خلع طلب کررہی ہے ۔ دونوں کو دولڑکیاں تین سالہ اور ایک سالہ ہیں۔خلع کی صورت میں دونوں لڑکیاں کس کی پرورش میں رہیں گی  ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  شرعا لڑکی بلوغ تک ماں کی پرورش میں رہے گی ۔ بالغ ہونے کے بعد اس کا حقِّ حضانت باپ کو حاصل ہوگا۔ عالمگیری جلد اول ۱۴۵ باب الحضانۃ میں ہے  أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الام اور ۲۴۵میں ہے :  والام والجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض … وبعد مااستغنی الغلام وبلغت الجاریۃ فالعصبۃ أولی یقدم الأقرب فاالأقرب۔
پس صورت مسئول عنہامیں رشتہء نکاح برقرار رہے یا ٹوٹ جائے ہر دو صورت میں دونوں لڑکیاں بلوغ تک ماں (ہندہ) کی پرورش میں رہیں گی۔ بعد بلوغ باپ کو حقِّ حضانت حاصل ہوگا۔                                    فقط واﷲ اعلم

TOPPOPULARRECENT