Sunday , September 24 2017
Home / عرب دنیا / قبلہ اول میں کیمروں کا اسرائیلی ڈرامہ نامنظور ، فلسطین کا ردعمل

قبلہ اول میں کیمروں کا اسرائیلی ڈرامہ نامنظور ، فلسطین کا ردعمل

بیت المقدس کے اسلامی تقدس کو تبدیل کرنا تل ابیب حکومت کا مقصد ۔ ناجائز اسرائیلی تسلط کے خاتمہ تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، فلسطینی ایوان صدر کے مشیر کا بیان
رملہ ، 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور حرم قدسی کے اندر اور اس کے آس پاس کے مقامات پر خفیہ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ دنیا کو دکھا سکے کہ تل ابیب حرم قدسی کے موقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر رہا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں نے قبلہ اول اور اس کے گرد و پیش میں کیمروں کی تنصیب کی اسرائیلی تجویز کو محض ایک ڈرامہ اور کھلواڑ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور نام نہاد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے قبلہ اول کی نگرانی کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی۔ پرانے بیت المقدس شہر کے گلی کوچوں میں کیمرں کی تنصیب کے بعد جدید کیمروں اور نگرانی کے آلات سے لیس غباروں کی مدد سے بھی حرم قدسی کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں صیہونی فوج نے بیت المقدس میں جگہ جگہ سیمٹی بلاک رکھ کر مقامی آبادی کا جینا دو بھر کر دیا۔ صیہونی فوج کی جانب سے اس اقدام کو بھی امن و امان کی کوششوں کا حصہ قرار دے کر اس کے دفاع کی کوشش کی اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ہم حرم قدسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر رہے ہیں۔ فلسطینی عہدیداروں کا بجا طور پر استفسار ہے کہ اگر اسرائیل حرم قدسی میں تبدیلی نہیں کر رہا ہے تو مسجد اقصیٰ کے اندر اور باہر چپے چپے پر کیمروں کی تنصیب، سیمنٹ کے بلاک کھڑے کرنے، جگہ جگہ فوجی چوکیاں اور ناکے لگا کر شہریوں کی آمدورفت روکنے کے اور کیا مقاصد ہیں؟ کیا یہ سارے ہتھکنڈے قبلہ اول کے اسلامی تقدس کو تبدیل کرنے کا واضح ثبوت نہیں ہیں۔ فلسطینی ایوان صدر کے مشیر احمد الرویضی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اسرائیل نے فوجی چوکیوں، فضائی نگرانی، سیمنٹ کے بلاک کھڑے کرنے اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے پورے بیت المقدس کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ حرم قدسی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہا۔ الرویضی نے کہا کہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں کیمرے فٹ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ مسئلہ اسرائیل کا القدس پر ناجائز تسلط ہے۔ جب تک اسرائیلی تسلط ختم نہیں ہو گا اس وقت تک فلسطینیوں کو آزادانہ طور پر قبلہ اول تک رسائی کا حق نہیں مل سکتا ہے۔ خفیہ کیمرے لگانے کا مقصد فلسطینیوں کی مذہبی آزادیوں میں خلل ڈالنا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو نے وزیراعظم بنیامین نتین یاھو کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ تل ابیب مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کو یکساں عبادت کا حق دینا چاہتا ہے۔ نیز کیمروں کی تنصیب کی تجویز کا مقصد موجودہ صورت حال کو برقرار رکھنا اور امن وامان کو یقینی بنانا ہے۔ فلسطینی ذریعے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اردن کے صدر مقام عمان میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو سے علحدہ ملاقات میں مسجد اقصیٰ میں خفیہ کیمروں کی تنصیب کی تجویز پر غور کیا گیا۔ مسجد اقصیٰ میں کیمرے نصب کرنے کی تجویز اردن کی جانب سے دی گئی جسے فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں نے قبول نہیں کیا۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کو اس تجویز سے اتفاق تھا۔ تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکرٹری صائب عریقات کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز محض زبانی کھیل تماشہ ہے۔ اسرائیل امن وامان کے قیام میں سنجیدہ ہے تو بیت المقدس میں عائد کی گئی تمام پابندیاں ختم کرے اور قبلہ اول کی راہ میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹائے۔ یہودی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکے ۔

TOPPOPULARRECENT