Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / قدیم عمارتوں کے تخلیہ کیلئے اقدامات میں بلدیہ کی تیزی

قدیم عمارتوں کے تخلیہ کیلئے اقدامات میں بلدیہ کی تیزی

مسلسل دو دن کی بارش کے بعد چوکسی ۔ مکینوں سے عمارت کا تخلیہ کردینے کی خواہش

حیدرآباد۔17جولائی (سیاست نیوز) شہر میں گذشتہ شب سے جاری مسلسل ہلکی اور تیز بارش کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عملہ نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے قدیم عمارتوں کے تخلیہ کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ دونوں شہروں میں جاری ہلکی اور تیز مسلسل بارش کے سبب مخدوش اور بوسیدہ عمارتوں کو فوری خالی کروانے کی ہدایت دی جا چکی ہے تاکہ کسی طرح کے حادثات ناگہانی کو روکا جا سکے۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر کی بیشتر مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کردی گئی تھی اس کے باوجود کئی عمارتیں ایسی ہیں جو مخدوش اور فوری قابل انہدام ہونے کی نوٹس جاری کئے جانے کے بعد اب تک اس میں لوگ مقیم ہیں ۔بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مسلسل بارش کے دوران ایسی عمارتوں کو شدید نقصان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے اسی لئے نوٹس حاصل کرنے والے مکینوں و مالکین جائیداد سے خواہش کی جا رہی ہے کہ وہ فوری ایسے مکانات کا تخلیہ کردیں جو مخدوش قرار دی جا چکی ہیں۔ بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شہر میں جن عمارتوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے ان میں بیشتر کا تخلیہ بھی کروایا جا چکا ہے لیکن ا س کے باوجود بھی اب تک کسی ایسی مخدوش عمارتیں ہیں جن میں لوگ مقیم ہیں جو ان کیلئے خطرہ کا باعث ہے اسی لئے فوری ان عمارتوں کا تخلیہ کروانے کی متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی طرح کے نقصان سے بچنے کے اقدامات کو ممکن بنایا جا سکے۔شہر حیدرآباد میں موجود بعض تاریخی عمارتیں جو مخدوش عمارتوں کی فہرست میں شامل ہیں ان عمارتوں کے مستقبل کے متعلق بھی جی ایچ ایم سی کو کوئی فیصلہ کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان تاریخی عمارتوں میں سرکاری ادارہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان عمارتوں کے مستقبل کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہ کئے جانے کے سبب صورتحال ناقابل فیصلہ بنی ہوئی ہے اور ان سرکاری اداروں کی جانب سے مخدوش عمارتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ تاریخی عمارتوں کی ابتر صورتحال کے متعلق شہر کے تاریخی و تہذیبی ورثہ کے تحفظ کیلئے خدمات انجام دینے والی تنظیموں کے ذمہ دارو ںکا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی کے سبب ان عمارتوں کے مستقبل پر خطرات منڈلا رہے ہیں اور منظم سازش کے تحت ان عمارتوں کو منہدم ہونے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ ان عمارتوں کی تزئین نو و آہک پاشی کے ذریعہ ان کی بہتر نگہداشت کو ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT