Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / قرآن اور اہل بیت اطہار

قرآن اور اہل بیت اطہار

مرسل : ابوزہیر

اللہ تعالی نے اہل بیت نبوت کا قرآن مجید میں ذکر جمیل فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’(اے نبی کی بیبیو!) تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو، جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی تھی۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھروالو کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور فرما دے۔ اور تمھیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت، بے شک اللہ ہر باریکی کو جانتا خبردار ہے‘‘۔
(سورہ الاحزاب۔۳۳،۳۴)
ان آیات مقدسہ سے مندرجہ ذیل باتوں پر خاص طور سے روشنی پڑتی ہے (۱) ان آیتوں سے اہل بیت نبوت کے فضل و شرف اور ان کے درجات و مراتب کا اعلان و اظہار مقصود ہے (۲) حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مقدس بیبیاں، حضرت فاطمہ، حضرت علی اور حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہم سب اہل بیت میں داخل ہیں۔ کیونکہ آگے پیچھے کی آیتوں اور احادیث پر نظر ڈالنے سے آفتاب کی طرح روشن ہوکر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ازواج مطہرات بھی یقیناً اہل بیت ہیں۔ عقائد کے امام حضرت ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی منقول ہے اور تمام اہل سنت و جماعت کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ بیوی کو اہل بیت کہنا قرآن مجید سے ثابت اور قرآن پاک کا محاورہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مقدس بیوی حضرت سارہ سے فرشتوں نے کہا کہ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے گھروالو! بے شک اللہ سب خوبیوں والا، عزت والا ہے‘‘۔ (سورہ ہود۔۳۷)اس آیت میں صراحۃً مذکور ہے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آکر حضرت سارہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ’’اہل بیت‘‘ کہا اور اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر میں بجز آپ کے اور آپ کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی دوسرا موجود نہیں تھا۔(۳) ان آیتوں میں اللہ عز و جل نے نبی کی مقدس بیویوں کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا اور بے پردہ باہر نکلنے سے منع فرمایا اور عورتوں کے باہر گھومنے پھرنے کو زمانہ جاہلیت کا بدترین دستور بتایا۔ اس میں تمام مسلم خواتین کے لئے نصیحت و عبرت کا بہت بڑا سامان ہے ۔

TOPPOPULARRECENT