Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / قرآن مجید کے پیغام کو مقامی زبانوں میں عام کرنا وقت کا تقاضہ

قرآن مجید کے پیغام کو مقامی زبانوں میں عام کرنا وقت کا تقاضہ

ادارہ سیاست حیدرآباد اور ملی سرویس گلبرگہ کے زیراہتمام ’’قرآن ہب کانفرنس‘‘ علماء و دانشوروں کا خطاب
گلبرگہ ۔ /23 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیمبر آف کامرس آڈیٹوریم گلبرگہ میں /21 اگست بہ روز اتوار ایک عظیم الشان ’’قرآن ہب کانفرنس ‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا یہ کانفرنس ادارہ سیاست حیدرآباد و ملی سرویسیس گلبرگہ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی ، جس کا عنوان ’’جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ قرآن فہمی ‘‘ رکھا گیا ۔ جس کے انعقاد کا اہم مقصد quranhub.net آن لائن ویب پورٹل سے متعلق عوام الناس میں شعور بیدار کرنا اور اس پورٹل سے متعلق جملہ معلومات فراہم کرنا رہا ، ساتھ ہی ساتھ کانفرنس میں قرآنک ویب پورٹل کے آئی او ایس اپلی کیشن کے بیٹاورژن کا افتتاح کیا گیا ۔ یہ کانفرنس جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی زیرنگرانی منعقد کی گئی ۔ جس میں جملہ 713 افراد نے آن لائن رجسٹریشن کروایا اور ایک سو سے زائد افراد نے اسپاٹ رجسٹریشن کروائے ۔ شرکاء کو ادارہ سیاست ، اور جے  آئی ایل ٹی اور ملی سرویسیس کی جانب سے ایک ’’عربک لرننگ کٹ‘‘ فراہم کی گئی ۔ کانفرنس میں ’’ملی اتحاد ‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سبھی مسالک و مناہج کے علماء کرام ، دانشوران اور سیاسی قائدین نے شرکت کی ۔ مہمانان خصوصی میں ڈاکٹر الحاج قمر الاسلام رکن اسمبلی ، (حلقہ شمال) گلبرگہ و سابق وزیر حکومت کرناٹک ، جناب بابا نظر محمد خاں نائب امیر جمعیت اہلحدیث ، کرناٹک و گوا ، جناب ذاکر حسین امیر مقامی جماعت اسلامی ہند گلبرگہ ، مولانا جمیل احمد صدیقی نظامی دارالعلوم دینیہ بندہ نواز درگاہ ، مولانا نذیر احمد رشادی بانی و مہتتم مدرسہ عربیہ تجوید القرآن گلبرگہ ، مولانا ممتاز احمد سلفی داعی جمعیت اہلحدیث گلبرگہ ، موجود تھے اور مہمانان اعزازی میں جناب سید احمد میئر سٹی کارپوریشن گلبرگہ ، الحاج الیاس سیٹھ باغبان صدر کرناٹک جمعیت باغبان ، جناب عارف منیار ایشین بلڈرس گلبرگہ اور مولانا نوح صدر انڈین یونین مسلم لیگ گلبرگہ شریک رہے ۔ کانفرنس کا آغاز حافظ محمد اسمعیل جامعی کی قرأت کلام پاک کی مع اردو ترجمہ کے شروع کی گئی ۔ جناب غازی فہیم الدین نے کانفرنس میں شریک سبھی مہمانان خصوصی و اعزازی اور سامعین و سامعات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نگران کانفرنس جناب ظہیر الدین علی خاں کا مختصراً تعارف پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد اس بابرکت بزم کے پہلے مقرر جناب نذیر احمد رشادی صدر صفا بیت المال گلبرگہ شاخ کی جانب سے ’’قرآن کا پیغام انسانیت کے نام ‘‘ کے زیرعنوان تقریر پیش کی جس میں آپ نے قرآن مجید کو ایک آفاقی و سماوی کتاب ہونے اور اس کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانے پر توجہ دینے پر زور دیا۔ساتھ ہی ساتھ جناب ظہیر الدین علی خاں کو قرآن ہب کے بنانے پر دلی مبارکباد پیش کی ۔ قرآن ہب پروجیکٹ کے ڈائرکٹر اور پروگرام کنوینر جناب ابو مظہر خالد صدیقی نے مفصلاً قرآن ہب کا تعارف و تجزیہ پیش کیا اور جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ قرآن فہمی کے ممکنہ و موجودہ ٹکنیکس پر ایک محضریہ (پرزنٹیشن) پیش کیا جس دوران انہوں نے کہا کہ جب ہم 1995 ء سے لیکر اب تک کی ترقی دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عصر حاضر کی مکمل ترقی ارتباط باہمی اور انٹرنیٹ کی ایجاد پر مشتمل 1995 ء میں انٹرنیٹ صارفین ایک فیصد سے کم تھے جبکہ 2014 ء کے سروے کے مطابق آج تین بلین سے زائد افراد ایک دوسرے سے جڑچکے ہیں ۔ اور ہندوستان کی 19 فیصد آبادی انٹرنیٹ سے جڑچکی ہے ۔ اس ارتباط شدہ آبادی تک قرآن مجید کو مقامی زبانوں میں پہچانا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔ جس کی جانب ادارۂ سیاست اور جے  آئی  ایل ٹی نے پہل کیا ہے اور جدید ٹکنالوجی کی مدد سے قرآن فہمی کی متعدد ٹکنیکس بتاتے ہوئے قرآن ہب کا مختصراً تعارف پیش کیا اور کہا کہ یہ ایک انتہائی پورفل اپلیکیشن ہے ۔ آئندہ اس کی نوعیت کس قدر ہوگی وہ وقت ہی بتاسکتا ۔ اسی بنا اس کا نام ’’محور القرآن‘‘ منتخب کیا گیا ہے ۔ مزید کہا کہ اس سافٹ ویر میں فی الحال دس ہندوستانی زبانوں کے پچاس سے زائد تراجم اور تین زبانوں کے تیرہ تفاسیر موجود ہیں۔ مولانا جمیل احمد صدیقی نظامی صاحب نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے ادارہ سیاست اور ان کی ڈپولپمنٹ ٹیم کو دلی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور بزم کے آخر مقرر کے بطور قائد محترم جناب قمر الاسلام نے قرآن ہب ویب پورٹل کو لاثانی تحفہ قرار دیا اور کہا کہ قرآن کی تلاوت باعث ثواب اور تلاوت مع تفہیم بصیرت اور اس پر عمل آوری نجات قرار دیا ۔ پروگرام کنوینر نے عظیم الشان کانفرنس کے سبھی شرکاء ، ذرائع ابلاغ ، پولیس اور مقامی افراد کی حمایت کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا ۔ مہمانانِ خصوصی اعزازی کی خدمت میں جناب ظہیر الدین علی خاں صاحب اور جناب ابو عمر صدیقی صاحب صدر ’’ملی سروسس‘‘ کی جانب سے ’’یادگاریہ‘‘ پیش کیا گیا اور سبھی شرکاء کو ’’عربک کٹ‘‘ فراہم کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT