Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / قرآن کی تعلیمات پر عمل آوری سے دونوں جہانوں کی سرخروی

قرآن کی تعلیمات پر عمل آوری سے دونوں جہانوں کی سرخروی

سدی پیٹ۔27 مئی ( ای میل ) مدینہ فنکشن ہال میں سدی پیٹ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام جلسہ استقبال ماہ رمضان برائے خواتین کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقع پر خواتین کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتیہ وئے مولانا عبیدالرحمن اطہرخطیب مسجد ٹین پوش نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک فضیلتوں‘ رحمتوں اور برکتوں کا ایسا ماہ مبارک ہے جس یں نوافل کا ثواب بھی فرائض کے برابر ہے اور ہر نیک عمل کا 70درجے ثواب ہے ۔ ان مقدس ساعتوں میں خواتین کو کثرت سے عبادات اور قرآن خوانی کرنی چاہیئے ۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل آوری سے دونوں جہانوں کی سرخروی کا سبب ہے ۔ بعض خواتین تو سارا رمضان ہی عید کی تیاری ‘ کپڑوں کی خریادیر کیلئے بازار کے چکر لگانے میں سارا وقت گنوا دیتی ہیں اور بعض بہنیں تو نعوذ باللہ فرض روزے بھی ان ذیلی مصروفیات کی وجہ سے چھوڑ دیتی ہیں ۔ یہ لمحہ فکر ہیکہ ہم کیا کررہے ہیں اور ہم کو کیا کرنا چاہیئے ۔ بمبئی سے تشریف لائے ہوئے مقرر مفتی عمر نے جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے ماہ مبارک کی عظمت بیان کی اور کہا کہ نہ صرف اس ایک ماہ میں بلکہ تاحیات تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیئے ۔ ایک دوسرے کی غیبت اور عیب جوئی کی برائیوں پر قرآن و احادیث کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی اور حالات حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے خواتین کو پردے کی پابندی کی تاکید کی اور بے پردگی کے عواقب نتائج سے آگاہ کیا ۔ ٹی وی ‘ انٹرنیٹ اور موبائیل اور نئی نسل پر ان کے بڑھتے ہوئے مضر اثرات پر روشنی ڈالی ۔ بعدازاں مسجد صوفیہ میں بھی بعد نماز ظہر مولانا عبید الرحمن خطیب مسجد ٹین پوش حیدرآباد نے مصلیوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ نفرت ‘ حسد اور تعصب ایسی برائیاں ہیں جو اسلام میں سخت گناہ قرار دی گئی ہیں ۔ حسد او رغرور کی وجہ سے ابلیس کو جنت سے نکال پھینکا گیا اور کہا کہ ایمان اور حیا ایک دوسرے کیلئے لازم اور ملزم ہیں۔ اگر حیا چلی جاتی ہے تو ایمان بھی جاتا رہے گا جبکہ ایمان اور تقوی میں اخروی کامیابی کا ضامن ہیں ۔ اس موقع پر جناب غوث محی الدین صاحب ‘ جناب علیم الدین سجو ‘ مفتی سلام ‘ مفتی اسمعیل ‘ عبدالمجید موجود تھے جبکہ خواتین کے اجلاس میں محترمہ عارفہ رخسانہ لکچرر گورنمنٹ ڈگری کالج سدی پیٹ ‘ امینہ بیگم ‘ انچارج سٹ ون ‘رخسانہ ( ناظمہ جماعت اسلامی ) اور شاکرہ بیگم ( صدر تنظیم عروج خواتین ) بھی موجود تھیں ۔

TOPPOPULARRECENT