Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / قراء ت

قراء ت

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فرض نماز کی پہلی رکعت یا دوسری رکعت میں سہوًا سورۂ فاتحہ یا ضم سورہ ترک ہوجائے تو شرعاً کیا حکم ہے ؟
۲۔  نماز میں قراء ت فرض ہے اور سورۂ فاتحہ واجب ۔ اگر اس میں تقدیم یا تاخیر ہوجائے تو شرعاً کیا حکم ہے  ؟  بینوا تؤجروا
جواب:  صورت مسئول عنہا میں سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں واجباتِ نماز سے ہیں۔ اور مطلقاً قراء ت کرنا فرض ہے۔ دونوں واجبات سے کوئی ایک واجب بھی سہوًا ترک ہوجائے، تو سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا۔ سورۂ فاتحہ کو پہلے پڑھنا اور پھر ضم سورہ کی تلاوت کرنا بھی واجبات سے ہے۔ اس ترتیب میں تقدیم و تاخیر {سورۂ فاتحہ سے پہلے ضم سورہ کی تلاوت} سے سجدہ سہو واجب ہوگا۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب السہو میں ہے:  ولا یجب السجود الا بترک واجب أو تاخیرہ أو تاخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب۔ اور اسی باب میں ہے :  ولو أخر الفاتحۃ عن السورۃ فعلیہ سجود السھو۔
جمعہ کی اذان اور زوال کا وقت
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے دن اذان کب دینی چاہئے  ؟  وقت شروع ہونے کے بعد یا بعض مساجد میں ساڑھے بارہ {۳۰:۱۲} کا وقت مختص کرکے ہمیشہ اُسی وقت اذان دیجاتی ہے۔    ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے  ؟
بینوا تؤجروا
جواب:  صورت مسئول عنہا میں جمعہ کی نماز ظہر کے بدلے ظہر کے وقت میں ادا کرنا ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اذان بھی ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد دینا ہوگا اور وقت سے پہلے اذان دیجائے تو اس کا اعادہ کرنا ہوگا۔ ساڑھے بارہ {۳۰:۱۲} کا وقت بعض موسم میں ظہر کے وقت داخل ہے اور بعض موسم میں اس وقت کے بعد ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے، لہٰذا وقت کا لحاظ کرتے ہوئے وقت میں اذان دینا ہوگا۔ ہدایہ جلد اول باب الاذان میں ہے :  ولایؤذن لصلاۃ قبل دخول وقتھا ویعاد فی الوقت۔
مرغ کی کھال کے متعلق شرعی حکم
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرغ کو ذبح کرنے کے بعد گرم پانی میں ڈالکر اس کے پر اور بال نکالے جاتے ہیں۔ اس طرح کے عمل کے بعد مذکورہ مرغ کا کھانا حلال ہے یا مکروہ ؟  نیز مرغ کو اس کی جلد کے ساتھ کھانا کیسا ہے  ؟  بینوا تؤجروا
جواب:  مذبوحہ مرغ کو گرم پانی میں ڈالنے کے بعد اس کی گرمی پروں تک محدود ہو اور پر نکالے جائیں توکوئی حرج نہیں، گرمی اگر اندرون اعضاء، مثلاً معدہ و غیرہ تک پہنچ کر گوشت میں سرایت کرجائے تو ایسا گوشت نجس ہوجائیگا۔ شرح مراقی الفلاح ص ۹۲ میں ہے :  لوالقیت دجاجۃ حال غلیان الماء قبل أن یشق بطنھا لنتف الریش قبل أن یغسل وان وصل الماء الی حد الغلیان ومکثف فیہ بعد ذلک زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم لا تطہر أبدا… وان لم یصل الماء الی حد الغلیان أو لم تترک فیہ الا مقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد لاغلال مسام السطح عن الریش والصوف تطہر بالغسل ثلاثا۔ صورت مسئول عنہا میں مذبوحہ مرغ کو بسہولت پر نکل جانے کی غرض سے اسی قدر گرم پانی میں رکھا جائے جس سے گرمی صرف جلد تک پہنچ جائے اور پر اس کے بآسانی نکل آئیں تو اس عمل سے کوئی حرمت و کراہت لازم نہیں آتی اس کا گوشت حلال ہے اگر کوئی بہت زیادہ گرم پانی میں اس کو ڈالے یا زیادہ دیر تک گرم پانی میں رکھے جس سے گرمی معدہ اور آنتوں تک پہنچ کر نجاست گوشت میں پھیل جائے تو دھونے سے پاک نہیں ہوگا اور اس کا کھانا درست نہیں ہوگا عام طور پر پہلی صورت ہی پر عمل ہوتا ہے، البتہ اس کو تین مرتبہ دھولیا جائے۔ مرغ کی جلد بھی حلال ہے۔              فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT