Saturday , August 19 2017

قران

نجات کا انحصار نہ تمہاری جھوٹی امیدوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی جھوٹی امیدوں پر (بلکہ) جو عمل کرے گا برے اسے سزا ملے گی اس کی اور نہ پائے گا اپنے لئے اللہ کے بغیر کوئی دوست اور نہ مددگار۔ (سورۃ النساء۔۱۲۳)
یعنی اللہ تعالی کی جانب سے جس اجر عظیم اور جنت الخلد کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، اس کے تم اس طرح مستحق نہیں بن سکتے کہ کرو کچھ نہیں اور سمجھو یہ کہ سب کچھ ہمارے لئے وقف ہے۔ ایسا نہیں۔ بلکہ یہ تو اس کو ملے گا جو سچا مؤمن بھی ہو اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوں۔ کیا صاف صاف بتادیا تاکہ کوئی کسی دھوکہ میں مبتلا ہوکر ان فرصت کے لمحات کو ضائع ہی نہ کردے۔ اب بھی اگر کوئی عمل صالح کی اہمیت کا اعتراف نہیں کرتا تو اسے خود فریب نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ مسلمانوں کے ساتھ اہل کتاب کے ذکر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے سامنے ایک ایسی قوم کی زندہ مثال پیش کی جا رہی ہے، جو صرف توقعات اور امیدوں کی آغوش کی پروردہ تھی۔ یہی ڈینگیں مارتے رہے کہ ’’ہمیں دوزخ کی اگ نہیں جلائے گی اور ہم افضل ترین امم ہیں‘‘ اور زندگی کے وہ سنہرے لمحات ضائع کردیئے، یعنی حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ علامی کے شرف سے محروم رہ گئے۔ جب آفتاب ہدایت طلوع ہوا تو زمین کے دور افتادہ تاریک ترین گوشے بھی جگمگا اٹھے، لیکن ان بیہوشوں کو ہوش نہ آیا۔ اپنی برتری کے نشہ میں آنکھیں بند کئے رہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عزت و عظمت کے تخت سے نیچے پھینک دیئے گئے۔
غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جا رہا ہے کہ تم ایسے لوگوں کے نقش قدم پر نہ چلنا، تاکہ تمہارا بھی یہ حسرت ناک انجام نہ ہو۔ لہذا غلامانِ رسول کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں سستی و کاہلی سے کام نہ لیں۔

TOPPOPULARRECENT