Friday , August 18 2017

قران

بے شک تمہاری رہنمائی کے لئے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے، یہ نمونہ اس کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور قیامت کے آنے کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب۔۲۱)
نظریات جب تک صرف نظریات ہوں، نہ ان کے حسن و قبح کا صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے، نہ ان میں یہ کشش اور جاذبیت پائی جاسکتی ہے کہ وہ کسی کو عمل پر اُبھار سکیں۔ دلائل کے آپ انبار لگا دیجئے، فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیجئے، لوگ تحسین و آفرین ضرور کریں گے، لیکن ان نظریات کو اپنانے اور اس اپنانے کی جو ذمہ داریاں ہیں اور ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی راہ میں جو خطرات ہیں، ان کو وہ اُٹھانے کے لئے آمادہ نہیں ہوں گے۔
اسلام فلسفیانہ نظریات کا مجموعہ نہیں کہ آپ اپنے ڈرائنگ روم میں آرامدہ صوفوں پر بیٹھ کر انھیں موضوع بحث بنائیں، اپنے ذہن رسا سے طرح طرح کی ترمیمات پیش کریں، مجلس مذاکرہ منعقد کرکے مقالے پڑھیں اور پھر یہ سمجھ لیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا، بلکہ یہ تو ایک نظامِ حیات ہے، جو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے اور ہر مرحلہ پر پیغام دیتا ہے۔ اس پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات پر کاربند ہونا اس وقت تک آسان نہیں، جب تک ایک عملی نمونہ ہمارے پاس نہ ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے صرف قرآن نازل کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کی تبلیغ کے لئے اپنے محبوبﷺ کو منتخب فرمایا، تاکہ وہ ارشاداتِ خداوندی پر خود عمل کرکے دِکھائیں اور ان پر عمل کرنے سے زندگی میں جو زیبائی اور نکھار پیدا ہوتا ہے، اس کا عملی نمونہ پیش کریں، تاکہ جو حق کے متلاشی ہیں وہ قرآنی تعلیمات کی عملی تصویر دیکھ کر اس کو اپنے سینہ سے لگالیں۔

TOPPOPULARRECENT