Saturday , August 19 2017

قران

(کفار از راہ مذاق) پوچھتے ہیں کہ (بتاؤ) یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ آپ فرمائیے (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو محض واضح طورپر خبردار کرنے والا ہوں۔ (سورۃ الملک۔۲۵،۲۶)
کفار بار بار پوچھتے تھے کہ بتاؤ قیامت کب برپا ہوگی، لیکن ان کے پوچھنے کا مقصد یہ نہ تھا کہ اگر انھیں پتہ چل جائے کہ قیامت کس سال، کس تاریخ کو، کتنے بجے قائم ہونے والی ہے تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ اب تک جو وہ قیامت پر ایمان لانے سے گریز کر رہے ہیں، اس کی محض یہ وجہ ہے کہ انھیں سال اور تاریخ نہیں بتائی گئی۔ ان کی یہ غرض نہ تھی، بلکہ محض استہزاء و تمسخر کے لئے وہ یہ سوال کیا کرتے تھے کہ صدیاں گزر گئیں، جو بھی پیغمبر آئے وہ اپنی قوم کو قیامت سے ڈراتے رہے، ابھی تک وہ آئی نہیں اور اگر آپ بھی اس کے لئے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کرسکتے تو ہم یہ باور کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ محض گپ ہے، کھوکھلی دھمکی ہے، جو سادہ لوح عوام کا استحصال کرنے کے لئے مذہبی قائدین ہر زمانے میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر قیامت کو آنا ہوتا تو وہ کب کی آچکی ہوتی۔ اگر اس کی کوئی حقیقت ہوتی تو آپ ہمیں اس کی متعین تاریخ بتادیتے۔ اس قسم کے خیالات محض ان کی حماقت کا اظہار تھا۔ جس واقعہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر کردیا ہے، جب تک وہ گھڑی نہ آجائے قیامت کیسے برپا ہوسکتی ہے۔
اس کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے، مجھے تو اس لئے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے کہ میں تمھیں قبل از وقت خبردار کردوں، تاکہ تم توبہ کرلو اور قیامت کے دن رسوائی کے عذاب اور آتش جہنم سے بچ جاؤ۔ آج تو تم قیامت کے لئے جلدی مچا رہے ہو، جب وہ برپا ہوگی تو تمہاری حالت دیدنی ہوگی۔ مارے خوف کے چہرہ بگڑ جائے گا اور زبان باہر نکل آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT