Monday , August 21 2017

قران

پس جس کو دے دیا گیا اس کا نامۂ عمل دائیں ہاتھ میں تو وہ (فرط مسرت سے) کہے گا لو پڑھو میرا نامۂ عمل، مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا۔ پس یہ (خوش نصیب) پسندیدہ زندگی بسر کرے گا، عالیشان جنت میں، جس کے خوشے جھکے ہوں گے۔ (اذن ملے گا) کھاؤ اور پیو مزے اُڑاؤ، یہ ان اعمال کا اجر ہے جو تم نے آگے بھیج دیئے گزشتہ دنوں میں۔ (سورۃ الحاقہ۔ ۱۹تا۲۴)
صالحین اور ابرار کو ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑایا جائے گا۔ یہ گویا اس امر کی علامت ہوگی کہ یہ لوگ جنتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ہے، اس وقت ان کی مسرت و شادمانی کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں گے اور اپنے احباب اور اعزہ کو دعوت دیں گے کہ وہ ان کا صحیفۂ عمل خود پڑھ لیں، تاکہ انھیں تسلی ہو جائے۔
’’ظننت‘‘ کا معنی ’’علمت‘‘ ہے، یعنی میں خوب جانتا تھا یا اپنے علم کو ازراہ تواضع ظن کہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کسی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے علم کا دعویٰ کرے۔
وہ جنت جس کی شان بڑی اونچی ہوگی، اس کے خوشے اونچے نہیں ہوں گے کہ ان کی دسترس سے باہر ہوں یا ان کو توڑنے میں انھیں زحمت اٹھانا پڑے، بلکہ نیچے جھکے ہوں گے۔ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، جس حال میں وہ ہوں گے ان کو تناول کرسکیں گے۔
’’سلف‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں، جو پہلے بھیج دی گئی ہو، یعنی جو اعمال صالحہ یہاں پہنچنے سے پہلے تم نے یہاں بھیج دیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT