Thursday , September 21 2017

قران

کیا خیال کر رکھا ہے ان لوگوں نے جو ارتکاب کرتے ہیں برائیوں کا کہ ہم بنادیں گے انھیں ان لوگوں کی مانند جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ یکساں ہو جائے ان (دونوں) کا جینا اور مرنا، بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (سورۃ الجاثیہ۔۱۲)
عرب کے کفار قیامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، ہر طرح کی باز پُرس سے بے غم تھے۔ ان کی زندگی کا سب سے اعلی مقصد یہ تھا کہ وہ خوب داد عیش دیں اور معاشرہ میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جائیں۔ جب اسلام نے انھیں قیامت کے محاسبہ سے ڈرایا اور انھیں ان بدکاریوں سے باز آنے کی تلقین کی، جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے تو ان میں سے جو بڑے سرکش تھے، بَرملا کہنے لگے کہ پہلے تو قیامت کا برپا ہونا ہی خلاف عقل اور محال ہے، اگر بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو وہی خدا وہاں بھی ہوگا جو یہاں ہے۔ جب اس نے ہمیں یہاں گونا گوں نعمتوں اور آسائشوں سے بہرہ ور کیا ہے، وہ ہمیں اس روز بھی محروم نہیں رکھے گا۔ وہ بڑی شوخی سے کہا کرتے: ’’اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹ کر گیا تو مجھے وہاں بڑی عمدہ چیزیں ملیں گی‘‘۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا جا رہا ہے کہ کیا بدکار اور فجار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی زندگی اور موت ان لوگوں جیسی ہوگی، جو اللہ تعالی اور رسول مکرم علیہ الصلوۃ والسلام پر سچے دل سے ایمان لائے اور ساری عمر اطاعت و فرماں برداری میں گزاردی؟۔ کیا وہ لوگ ان کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں، جو عمر بھر شرک کرتے رہے، نفس کی سفلی خواہشات کی تسکین کے لئے تمام اخلاقی ضابطوں کو روندتے رہے اور حصول مال و جاہ کے لئے اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑتے رہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔ کان کھول کر سن لو! ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اطاعت گزاروں کو فردوسِ بریں میں بصد عزت داخل کیا جائے گا اور بدکاروں کو دھکے دے کر جہنم کے شعلوں میں پھینک دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT