Wednesday , September 20 2017

قران

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا ۔ (سورۃ القیامۃ ۔ ۳۶)
وہ اونٹ جو کسی چرواہے کے بغیر ہی چَرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے اسے اِبلُٗ سدیٰ کہتے ہیں۔ ابل سُدیٰ ترعیٰ بلا راعٍ ۔ (قرطبی) علامہ ابن منظور نے سُدیٰ کا معنی لکھا ہے ۔ السُدیٰ : المھمل ای یُترک مھملاً غیرمامور وغیرمنھی ۔ (لسان العرب ) یعنی ایسی چیز جس کو بالکل نظرانداز کردیا جائے ، نہ اس کو کوئی کام کرنے کا حکم دیا جائے اور نہ اس کو کسی چیز سے منع کیا جائے ۔ ارشاد ہورہا ہے کہ انسان، جس کو ہم نے اشرف المخلوقات بنایا ، اسے گونا گوں صلاحیتیں بخشیں ، اس کو بالکل نظرانداز کردینا حکمت الٰہیہ کے خلاف ہے ۔ اگر یہ لوگ یہ خیال کررہے ہیں کہ انسان کو مہمل اور بیکار سمجھ کر نظرانداز کردیا جائے گا ، اس کی رہنمائی کے لئے دنیا میں اسے کوئی ضابطۂ حیات نہیں دیا جائے گا اور نہ قبروں سے اُٹھاکر انھیں بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا جائے گا ۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں وہ سخت نادان ہیں۔ انسان جیسی عظیم المرتبت مخلوق کو حکمتِ خداوندی کیسے نظرانداز کرسکتی ہے۔ علامہ ابن کثیر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ انسان کو دنیا میں مہمل چھوڑ دیا جائے ، نہ اسے کسی چیز کا حکم کیا جائے اور نہ اسے کسی چیز کا حکم کیا جائے اور نہ اسے کسی چیز سے روکا جائے ۔ اسی طرح اسے قبر میں بھی مہمل نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اس دنیا میں اسے بعض احکام بجالانے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور بعض اُمور سے اسے روکا بھی گیا ہے اور قیامت کے دن اسے زندہ کرکے اﷲ تعالیٰ کی جناب میں حاضر بھی کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT