Sunday , October 22 2017

قران

اُٹھیے اور (لوگوں کو ) ڈرائیے ۔ اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے ۔ (سورۃ المدثر ۔ آیت ۲ اور ۳)
آغاز نبوت میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول ؐ کو جو ہدایات دیں ، جن احکام اور ارشادات سے نوازا ، ، اس سے بہتر کوئی لائحہ عمل ہو ہی نہیں سکتا ۔ یایھاالمدثر کے محبت بھرے خطاب کے بعد پہلا حکم یہ دیا کہ اُٹھیے ! کاہلی اور بے پرواہی سے نہیں ، پکے عزم اور پوری سنجیدگی کے ساتھ اُٹھیے ۔ آپ کے گرد و پیش بسنے والی مخلوق ، غفلت کی نیند سوئی پڑی ہے ۔ اسے خبردار کردیجئے کہ آنکھیں کھولو ، اپنی روش بدلو ، ورنہ عذاب الٰہی نازل ہونے ہی والا ہے ۔ اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو اس عذاب سے بچنے کا راستہ میں تمہیں دکھاتا ہوں ۔ وقت ضائع کیے بغیر اس پر گامزن ہوجاؤ ۔ اس دعوت اور تنذیر کے مخاطب اگرچہ کافۃ الناس ہیں لیکن اوّلین مخاطب اہل مکہ اور قریش تھے جو صدیوں سے شرک کو قبول کرچکے تھے ۔ مشرکانہ عقیدے ان کے قلوب و اذہان میں رَچ بس چکے تھے ۔ مزید برآں انہیں اپنی برتری کا ایک انوکھا احساس تھا ۔ وہ کسی کو خاطر میں ہی نہ لاتے تھے ۔ سب سے بڑے معزز ، سب سے زیادہ عقل مند ، سب سے بڑھ کر دُور اندیش ، وہ خود تھے ۔ مذہبی رسوم اور دین کے جملہ حقوق انہی کے نام محفوظ تھے ۔ اس لئے ان کو خدا کے عذاب سے ڈرانا یا دعوت حق دینا کوئی آسان کام نہ تھا ۔ ان کے دلوں کی پتھریلی اور سنگلاخ زمین میں ایمان کی تخم ریزی بڑا دشوار مرحلہ تھا ۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ اپنے رسولؐ کو فرماتے ہیں کہ اپنے رب کی بڑائی کا عقیدہ بھی رکھو اور اس کا اعلان بھی کردو۔ جب آپ کا یہ عقیدہ ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ سب سے بڑا ہے تو پھر دوسرے بڑوں کی آپ کو پروا نہیں رہے گی ۔ ٹھیک ہے یہ لوگ بڑے ہوں گے ، لیکن ان کی بڑائی چند میلوں اور چند دنوں تک ہے اور آپ کے رب کی بڑائی کا پرچم بحر و بر ، دشت و جبل ، عرش و فرش پر ازل سے لہرا رہا ہے اور ابد تک لہراتا رہے گا ۔ آپ ان فانی بڑوں کی پروا مت کریں ۔ ان کا جتنا جی چاہے آپ کے راستوں میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کردیں ، آپ کا رب جو حقیقی بڑا ہے وہ انھیں رائی بناکر اُڑادے گا ۔ دل میں اس کی کبریائی کا عقیدہ اور زبان سے اس کی کبریائی کا اعلان ، یہی تو وہ فریضہ ہے جو آپ نے ادا کرنا ہے ۔ اﷲ اکبر سے نماز کا افتتاح اسی آیت سے ماخوذ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT