Tuesday , September 26 2017

قران

اور کسی پر احسان نہ کیجیے زیادہ لینے کی نیت سے اور اپنے رب (کی رضا ) کے لیے صبر کیجیے ۔ (سورۃ المدثر ۔ آیت ۶ اور ۷)
کیا ہی پیاری نصیحت ہے ، کتنے اعلیٰ ضابطۂ اخلاق کی تعلیم ہے ۔ عام طورپر تو کسی کے ساتھ جب احسان اور بھلائی کی جاتی ہے تو یہ توقع ہوتی ہے کہ جب وقت آئے گا تو یہ مجھ سے بڑھ کر احسان کرے گا ۔لوگ وہاں ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں جہاں کم از کم دو کی بازیافت کی امید ہوتی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ اپنے رسول مکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کو حکم دیتے ہیں کہ ہدایت کا جو احسان آپ ان پر فرمارہے ہیں ، معرفت الٰہی کی جو دولت آپ انھیں عطا فرمارہے ہیں ، یہ بڑی پیش قیمت چیز ہے لیکن بھولے سے بھی یہ خیال آپ کے دل میں کبھی نہ آنا چاہئے کہ آپ کے دستِ مبارک پر مشرف باسلام ہونے والے اس احسان عظیم کا معاوضہ آپ کو دیں گے۔ آپ محض اور محض اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کے لیے یہ کام کریں اور کسی انسان سے اس کے معاوضہ کی قطعاً توقع نہ رکھیں۔ آپ کا رب خود آپ کو اس کا اجرعظیم اور اجرغیرممنون عطا فرمائے گا ۔
اس دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں جو تکلیفیں پیش آئیں ، جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ، ان پر صبر کیجئے اور صبر بھی محض اﷲ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ۔ ان آیات طیبات میں جو ہدایات مذکور ہیں ، کوئی یہ خیال نہ کرے کہ حضور پہلے ان کے خلاف عمل پیرا تھے اور حضور کی اصلاح کے لئے یہ ہدایات نازل کی گئیں بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فطرتِ ذکیہ اور طبیعتِ سعیدہ پہلے ہی مکارمِ اخلاق سے متصف بھی ہر قسم کی خامیوں اور عیوب سے حضورؐ کا دامن پاک تھا ۔ یہ احکام یا تو دوام کے لئے ہیں کہ حسب معمول آپ ان پر کاربند رہیے یا قیامت تک آنے والے مبلغین اور خادمانِ دین کے لئے یہ ایک منشور مقرر کردیا گیا کہ اگر نبوت کی وراثت سے کچھ حصہ لینا چاہتے ہو تو ان اصولوں پر مضبوطی سے کاربند رہو ۔

TOPPOPULARRECENT