Friday , August 18 2017

قران

اور ہم نے ان کو وہ قوت و طاقت بخشی تھی جو ہم نے تمہیں نہیں دی اور ہم عطا کیے تھے انھیں کان ، آنکھیں اور دل ،لیکن ان کے کسی کام نہ آئے ان کے کان ، نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل کیونکہ وہ انکار کیا کرتے تھے اﷲ تعالیٰ کی آیتوں کا اور احاطہ کرلیا ان کا اس ( عذاب) نے جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے ۔ ( سورۃ الاحقاف ۔ آیت ۲۶)
قورت و مال میں وہ تم سے کہیں زیادہ تھے ۔ انہیں سننے کیلئے کان ، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سمجھنے کیلئے دل دیئے گئے تھے ۔ لیکن انھوں نے اس سے فائدہ نہ اُٹھایا اور آیاتِ الٰہیہ کا پیہم انکار کرتے رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ساری صلاحیتیں بانجھ ہوکر رہ گئیں اور ان کا انجام بڑا دردناک ہوا ۔ ان آیات کو پڑھ کر یُوں ہی آگے نہ بڑھ جائیے بلکہ لمحہ دو لمحہ کے لئے توقف فرمائیے ۔ ان آیات میں آپ کے لئے جو درسِ عبرت ہے ، اس کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ قرآن حکیم نے ان واقعات کو کہانی اور افسانے کے طورپر پیش نہیں کیا بلکہ اپنے قارئین کے شعور کو جھنجھوڑنے کیلئے ، ان کو اپنا محاسبہ کرنے پر مائل کرنے کیلئے ، ان کے اعمال کے آئینہ میں انھیں ان کا چہرہ دکھانے کے لئے ان واقعات کو پیش کیا ہے ۔ غور کیجئے اور بتائیے کیا ہم اپنے کانوں ، اپنی آنکھوں اور فہم و فراست کی قوتوں کو صحیح استعمال کررہے ہیں ۔ یاد رکھیے قدرت کے قوانین اٹل ہیں ۔ یہ ہمیشہ یکساں رہتے ہیں ۔ کسی کی خاطر ان میں ردّ و بدل نہیں کیا جاتا ۔

TOPPOPULARRECENT