Thursday , August 17 2017

قران

اے ایمان والو ! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی ( کریم) کی آواز سے اور نہ زور سے آپؐ کے ساتھ بات کیا کرو جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو (اس بے ادبی سے ) کہیں ضائع نہ ہوجائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو ۔ ( سورہ حجرات ۔ آیت ۲)
اس آیت طیبہ میں بھی بارگاہِ رسالت کے آداب کی تعلیم دی جارہی ہے ، گفتگو کا طریقہ بتایا جارہا ہے کہ اگر تمہیں وہاں شرفِ باریابی نصیب ہو اور ہمکلامی کی سعادت سے بہرہ ور ہو تو یہ خیال رہے کہ تمہاری آواز میرے محبوب کی آواز سے بلند نہ ہونے پائے ۔ جب حاضر ہو تو ادب و احترام کی تصویر بن کر حاضری دو ۔ اگر اس سلسلہ میں تم نے ذرا سی غفلت برتی اور اور بے پروائی سے کام لیا تو سارے اعمال حسنہ ہجرت ، جہاد ، عبادات وغیرہ تمام کے تمام اکارت ہوجائیں گے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت فاروقِ اعظمؓ نے آہستہ آہستہ کلام کرنے کو اپنا معمول بنالیا ۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے عرض کی یارسول اﷲ ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا ، میں تادمِ واپسیں حضورؐ سے آہستہ آہستہ بات کروں گا ۔ صحابۂ کرام جو پہلے ہی سراپا ادب و احترام تھے ، اس آیت کے نزول کے بعد مزید محتاط ہوگئے ۔ حضرت ثابت ابن قیسؓ جو قدرتی طورپر بلند آواز تھے ، اس آیت کے نزول سے ان پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی ۔ گھر میں بیٹھ رہے۔ دروازہ کو قفل لگادیا اور دن رات زار و قطار رونا شروع کردیا ۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے جب ایک دو روز ثابتؓ کو نہ دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا ۔ عرض کیا گیا کہ انھیں تو دن رات رونے سے کام ہے ۔ حضور ؐ نے بُلا بھیجا اور رونے کی وجہ پوچھی ۔ غلامِ اطاعت شعار نے عرض کیا یا رسول اﷲ ! میری آواز اونچی ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ میری تو عمر بھر کی کمائی غارت ہوگئی ۔ اس دلنواز آقا نے تسلی دیتے ہوئے یہ مژدہ جانفرا سُنایا، کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید قتل کیے جاؤ اور جنت میں داخل ہوجاؤ ۔ عرض کیا اپنے رب کریم کی اس نوازشِ بے پایا پر یہ بندہ راضی ہے ۔ (رُح المعانی )

TOPPOPULARRECENT