Friday , August 18 2017

قران

اے ایمان والو ! اگر لے آئے تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو اس کی خوب تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم ضرر پہنچاؤ کسی قوم کو بے علمی میں پھر تم اپنے کیے پر پچھتانے لگو ۔ ( سورہ حجرات ۔ آیت ۶)
اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں اکثر علمائے تفسیر نے یہ روایت ذکر کی ہے ۔ بنومصطلق کا سردار حارث ابن ابی الضرار بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور مشرف بہ اسلام ہوا ۔ حضورؐ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو اس نے اسے بھی قبول کرلیا اور عرض کیا کہ میں واپس اپنے قبیلہ کے پاس جاکر انہیں اسلام کی دعوت دوں گا ۔ جن لوگوں نے یہ دعوت قبول کی ان سے زکوٰۃ بھی وصول کروں گا ۔ آپ فلاں وقت اپنا کوئی آدمی بھیج کر جمع شدہ زکوٰۃ وصول کرلے ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وقتِ مقررہ پر ولید ابن عُقبہ ابن ابی معیط کو بنی مصطلق کی طرف بھیجا تاکہ وہ زکوٰۃ وصول کرے ۔ زمانۂ جہالت میں ولید کے ذمہ ان کا ایک قتل تھا۔ اسے خدشہ ہوا کہ مبادہ وہ اسے قتل کردیں۔ وہ راستہ سے لوٹ آیا اور آکر خبر دی کہ انھوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ۔ وہ میرے قتل کے در پے ہوگئے تھے ۔ مشکل سے جان بچاکر یہاں پہنچا ہوں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اس کی یہ بات سنی تو حضرت خالدؓ کو ایک دستہ دے کر ان کی طرف روانہ کیا اور حکم دیا کہ پہلے حقیقتِ حال معلوم کرلینا پھر کوئی کارروائی کرنا ۔ جلدبازی سے کام نہ لینا ۔ ( قرطبی)  حسبِ ارشاد حضرت خالدؓ رات کے وقت وہاں پہنچے خود ان کے علاقہ سے باہر پڑاؤ کیا اور اپنے جاسوس بھیجے تاکہ ان کے احوال پر آگاہی حاصل کریں۔ انھوں نے آکر گواہی دی کہ وہ اسلام پر پختہ ہیں ۔ حضرت خالدؓ صبح کے وقت ان کے ہاں گئے اور اپنے جاسوسوں کی فراہم کردہ اطلاعات کو درست پایا اور واپس آکر حضور اکرمؐ سے حقیقت حال عرض کردی ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ یعنی اس آیت کا مقتضیی یہ ہے کہ فاسق کی خبر کی تحقیق کرنا واجب ہے ۔ جب تک حقیقت حال پوری طرح واضح نہ ہوجائے اس پر عمل کرنا ممنوع ہے ۔

TOPPOPULARRECENT