Friday , October 20 2017

قران

بے شک اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں پس صلح کرادو اپنے دو بھائیوں کے درمیان ۔ اور ڈرتے رہا کرو اﷲ سے تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے ۔  (سورہ حجرات ۔ آیت ۱۰)
خانہ جنگ ، باہمی قتال و جدال اور ان کے بارے میں احکام کا ذکر ہوچکا ۔ اب پھر باہمی محبت و پیار اور الفت و ایثار کے جذبات کو بیدا کرنے کیلئے فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان تو سگے بھائی ہیں۔ ان کا نفع اور نقصان ، ان کی خوشی اور غمی ، ان کی فتح اور شکست سب ایک ہیں۔ یہ تھوڑی سی رنجش جو پیدا ہوگئی ہے بالکل عارضی نوعیت کی ہے ۔ ان کے بہی خواہوں پر فرض ہے کہ مداخلت کرکے ان کے درمیان صلح کرادیں تاکہ وہ پہلے کی طرح پھر شیر و شکر ہوجائیں۔ جب دو طاقتور گروہوں کے دست و گریباں ہونے کا وقت تھا اس وقت بھی حکم دیا کہ ان میں صلح کرادو ۔ یہاں جب دو فرد آپس میں گتھم گتھا ہیں تو بھی حکم دیاکہ ان میں صلح کرادو۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے تم اسی وقت مستحق ہوسکتے ہو جب اُمّتِ مسلمہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک دوسرے سے محبت و پیار کا مظاہرہ کرے۔ ایسی دل نشینی ، ایسی شیرینی ، ایسی مٹھاس صرف اﷲ تعالیٰ کے کلام میں ہی پائی جاسکتی ہے ۔ قرآن کا یہ وہ اعجاز ہے جس نے فصحائے عرب کو دم بخود کردیا تھا ۔ یہاں صاحب جوامع الکلم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشادِ گرامی بھی سماعت فرمائیے : حضرت ابودرداء سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسے عمل پر آگاہ نہ کروں جس کا درجہ روزے ، نماز اور صدقہ سے افضل ہے ۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ ! ضرور مہربانی فرمائیے ۔ فرمایا دو آدمیوں کے درمیان صلح کرادینا ۔ ساتھ ہی بتایا کہ دو آدمیوں کے درمیان فساد کرانا ایمان کو مُونڈ کر رکھ دیتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT