Friday , August 18 2017

قران

اے نبی ( مکرم! ) ہم نے بھیجا ہے آپ کو ( سب سچائیوں کا ) گواہ بناکر …(سورۃ الاحزاب ۔ ۴۵)
اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم کو بڑے محبت بھرے انداز سے خطاب فرماتا ہے اور اس کے بعد ان جلیل القدر خطابات کا ذکر کرتا ہے جن سے اُس نے اپنے محبوب کو سرفراز فرمایا ۔ ان کے ذکر سے اگر ایک طرف اپنے پیارے رسول کی عزت افزائی مقصود ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کو بھی حوصلہ دیا جارہا ہے کہ تم ان طوفانوں سے نہ گھبراؤ ۔ ان تند و تیز لہروں سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ یہ مُنہ کھولے ہوئے گرداب تمہارا کچھ نہیں بگاڑسکتے ۔ اس ملّت کا سفیہ ہم نے کسی ایسے ملاّح کے سُپرد نہیں کیا جو کم ہمت اور ناتجربہ کار ہو۔ بلکہ اس کشتی کا ناخدا وہ نبیٔ برحق ہے جس کو ہم نے ان صفاتِ جلیلہ سے متصف کیا ہے ۔ تم صبر و استقامت سے اس کا دامن اطاعت مضبوطی سے پکڑے رہو۔ یقینا تمہیں ساحلِ مراد تک رسائی نصیب ہوگی ۔ ساتھ ہی دشمنان اسلام کی ان ناپاک آرزوؤں کو بھی خاک میں ملادیا جو اپنی سازشوں اور حیلہ سازیوں سے حق کی اس شمع فروزاں کو بُجھانا چاہتے تھے ۔ ارشاد فرمایا ، اے میرے نبی! ہم نے تجھے شاہد بنایا ہے ۔ شاہد کا معنی گواہ ہے اور گواہ کے لئے ضروری ہے کہ جس واقعہ کی وہ گواہی دے رہا ہے وہ وہاں موجود بھی ہو اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے بھی ۔ چنانچہ علامہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے : شہادت وہ ہوتی ہے کہ انسان وہاں موجود بھی ہو اور وہ اسے دیکھے بھی خواہ آنکھوں کی بینائی سے یا بصیرت کے نُور سے ۔ یہاں ایک چیز غور طلب ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا کہ ہم نے تجھے شاہد بنایا لیکن جس چیز پر شاہد بنایا ، اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایک چیز ذکر کردی جاتی تو شہادتِ نبوت وہاں محصور ہوکر رہ جاتی ۔ یہاں اس شہادت کو کسی ایک امر پر محصور کرنا مقصود نہیں بلکہ اس کی وسعت کا اظہار مطلوب ہے۔

TOPPOPULARRECENT