Tuesday , October 17 2017

قران

اور قسم ہے میرے رسول کے اس قول کی کہ اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے ۔ پس ( اے حبیب! ) رُخِ انور پھیرلیجئے ان سے اور فرمائیے تم سلامت رہو۔ وہ ( اس کا انجام ) ضرور جان لیں گے ۔ (سورۃ الزخرف ۔ ۸۹)
حضور رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم نے حق کو آشکارا کردیا ۔ شک و شبہ کے بادل چھٹ گئے ۔ قرآنِ کریم کے اعجاز نے ان منکرین کے چھکّے چھڑادیئے اور ان پر سکتہ طاری کردیا ۔ اس کے باوجود وہ اپنے باطل سے چمٹے رہنے پر مُصر تھے ۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلم نے اپنے خداوندِ ذوالجلال کی بارگاہ میں عرض کی الٰہی ! یہ بڑے ضدّی اور ہٹ دھرم لوگ ہیں ، یہ مانتے ہی نہیں۔ آفتابِ ہدایت طلوع ہوچکا ہے ، لیکن یہ اسے تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ اﷲ تعالیٰ کو اپنے محبوب کی یہ ادا بڑی پسند آئی اور اس قول کی قسم اٹھائی جو لبِ مصطفیٰ علیہ افضل التحیۃ واجمل الثناء سے نِکلا ۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اے میرے حبیب! آپ بھی ان سے رُخِ انور پھیرلیجئے ۔ اب ان سے اُلجھنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے لئے سلامتی اور ہدایت کی دعا مانگتے رہا کیجئے ۔ عنقریب ان کی آنکھیں کُھل جائیں گی اور حقیقتِ حال جان لیں گے ۔اگر حق کو قبول نہ کیا تو اپنی سزا پائیں گے اور اگر قبول کرلیا تو فردوسِ بریں کے دروازے ان پر کھول دیئے جائیں گے۔ علامہ ابوحیانؒ الاندلسی اور علامہ محمودؒ آلوسی کی رائے یہ ہے کہ یہاں ’’سلام‘‘ دعائیہ نہیں بلکہ ان سے اپنی برأت اور قطعِ تعلق کے اعلان کے لئے مستعمل ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT