Friday , September 22 2017

قران

اور جب آگیا ان کے پاس حق تو وہ کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔ اور کہنے لگے کیوں نہ اُتارا گیا یہ قرآن کسی ایسے آدمی پر جو ان دو شہروں میں بڑا ہے ۔ (سورۃ الزخرف ۔ ۳۰۔۳۱)
پہلے تو کفارِ عرب اس بات کو تسلیم کرنے کیلئے ہی تیار نہ تھے کہ کوئی انسان نبوت کے منصب پر فائز ہوسکتا ہے ۔ وہ کہتے اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ایسا ہوسکتا ہے تو پھر اس منصب کے لئے کسی ایسے شخص کا انتخاب ہونا چاہئے جو اثر و رسوخ کا مالک ہو ۔ سردار اور مالدار ہو ، اس کا رُعب ہر برنا ؤ پیر کے دل میں بیٹھا ہو۔ اس ملک کے دو مشہور شہر ہیں ۔ مکہ اور طائف ۔ ان میں بڑے بڑے رُوسا ء اور بارسوخ سردار موجود ہیں۔ منصبِ نبوت کے لئے ان میں سے کسی کو منتخب کرنا چاہیے تھا تاکہ لوگ اس کی زبان سے نکلی ہوئی دعوت کو فوراً قبول کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے چنانچہ ولید بن مغیرہ سے مروی ہے کہ اس نے کہا جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اگر یہ حق ہوتا تو یہ مجھ پر نازل ہوتا یا (طائف کے سردار) ابومسعود ثقفی پر۔ بے شک اس بارِ نبوت کے اُٹھانے کا حوصلہ ہر ایک میں نہیں ، بے شک کوئی عظیم انسان ہی اس امانتِ عظمیٰ کا متحمل ہوسکتا ہے اور اس منصبِ جلیل کی نازک ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے لیکن اے کفّارِ ! عظمت کا جو معیار تم نے مقرر کر رکھا ہے کہ بڑا دولت مند ہو ، ساز و سامان کی بہتات ہو ۔ اس منصب کی اہلیت کے لئے عظمت و بڑائی کا یہ معیار نہیں بلکہ اس کا معیار یہ ہے کہ دل ہرقسم کی آلائشوں سے پاک ہو ۔ کردار بے داغ اور سیرت آفتاب سے تابندہ تر ہو ، عزم و حوصلہ کا یہ عالم ہوکہ مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو نہ گھبرائے اور نہ پسپائی اختیار کرے بلکہ بڑے سکون اور وقار کے ساتھ تبسم کناں منزل کی طرف بڑھتا چلا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT