Friday , October 20 2017

قران

اور بروقت ڈرانے والا اور دعوت دینے والا اللہ کی طرف اس کے اذن سے اور آفتاب روشن کر دینے والا۔ اور آپ مژدہ سنا دیں مومنوں کو کہ ان کے لئے اللہ کی جناب سے بڑا ہی فضل ہے۔ (سورۃ الاحزاب ۴۶۔۴۷)
فرمایا: اے محبوب! میں نے تجھے سراجاً منیرا بنا کر بھیجا ہے۔ ان دو لفظوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پر جن انعامات ولطائف کی بارش فرمائی ہے اس کی بیکرانیوں کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ آفتاب اور آفتاب بھی عالمتاب ، روشن اور اتنا روشن کہ دوسروں کو بھی نور وضیاء کا منبع ومصدر بنا دینے والا۔ اہل دل نے یہاں بہت کچھ لکھا ہے میں فقط حضرت عارف باللہ مولانا ثناء اللہ پانی پتی کا ایک جملہ لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) زبان فیض ترجمان سے تو داعی تھے اور اپنے قلب مبارک اور قالب منور کی وجہ سے سراج منیر تھے۔ اہل ایمان اس آفتاب کے رنگوں میں رنگ جاتے ہیں اور اس کے انوار سے درخشاں وتاباں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس نور مجسم (ﷺ) کے انوار سے درخشاں راہ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔پہلے تو اللہ تعالیٰ نے جو لطف وکرم اپنے حبیب کریم اور محبوب دلنواز (ﷺ) پر فرمایا، اس کا ذکر ہوا ۔ اب اس ابر رحمت کا بیان ہو رہا ہے جو امت مسلمہ پر برسایا جانے والا ہے۔ ارشاد ہے: اے میرے نبی! اپنے غلاموں کو بھی یہ بشارت دے دو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ان پر بھی ہوگا اور وہ فضل وکرم قلیل اور محدود نہیں ہوگا بلکہ فضلاً کبیرا ہوگا۔ آپ خود ہی غور فرمائیے کہ وہ رب العزت جس کے سامنے ساری دنیا متاع قلیل ہے تو جس فضل کو وہ کبیر فرما رہا ہے اس کی وسعتوں کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ یہ سب صدقہ ہے محبوب کریم رؤف رحیم (ﷺ) کا جن کی غلامی کے باعث ہمیں یہ شرف حاصل ہے۔
کاش ! ہم اس غلامی کی قدر کو پہچانتے اور اس جمال جہاں افروز پر اپنی جان ، اپنا دل اور ہو ش وخرد قربان کرتے جو صحابہ کرام کا طریقہ تھا۔ تب ہمیں اس فضل کبیر کا صحیح احساس ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT