Friday , August 18 2017

قران

بے شک ہم ہی نے اتارا ہے اس ذکر (قرآن مجید ) کو اور یقیناً ہم ہی اس کے محافظ ہیں  (سورۃ الحجر ۔ ۹)
بڑے زوردار الفاظ میں کفار کے اس اعتراض کا بطلان کیا جا رہا ہے کہ قرآن کلام الٰہی نہیں۔ فرمایا بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے اسے تین مرتبہ ضمیر متکلم کا بیک وقت تکرار (انا ۔ نحن۔ نزلنا) جس تاکید بالائے تاکید پر دلالت کر رہا ہے۔ وہ اہل علم سے مخفی نہیں اور ضمیریں بھی جمع متکلم کی استعمال ہوئیں جو نازل کرنے والے کی عظمت و کبریائی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ یعنی ہم جو سارے جہانوں کے خالق و مالک ہیں ہم نے اس کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔ دشمنان اسلام کی خواہشوں ، کوششوں اور سازشوں کے باوجود ایک آیت میں بھی ردو بدل نہیں ہوسکا۔ ایک نقطہ کی کمی بیشی اور زیروزبر کا فرق بھی تو نہیں ہوا۔ آج بھی لاکھوں انسان اسے اپنے سینوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ اگر خدانخواستہ سارے لکھے ہوئے قرآنی نسخے نایاب ہوجائیں تو پھر بھی یہ جوں کا توں محفوظ رہے گا۔ اگر کوئی جابر سے جابر حکمران اور کوئی بڑے سے بڑا عالم اسے پڑھتے ہوئے زیرکو زبر میں بدل دے تو سات آٹھ سال کا بچہ اسے ٹوک دے گا۔ آج دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں جس کا مصنف یا جس کے ماننے والے اس کے متعلق یہ دعویٰ کر سکتے ہیں۔ مذہبی صحائف جو دنیا کی مختلف قوموں کی عقیدت کا مرکز ہیں، ان کے ماننے والوں کا بھی یہ دعویٰ نہیں کہ ان کے مذہبی صحیفے ہر قسم کے ردوبدل سے پاک ہیں۔ صرف قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ باطل اس میں کسی جانب سے داخل نہیں ہوسکتا۔ اور ان چودہ صدیوں کے طویل عرصہ میں اسلام کا کوئی بدترین بدخواہ بھی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ اس میں کوئی تحریف ہوئی ہو، یورپ کے مستشرقین جنہوں نے اپنے وسیع علم، بےعدیل ذہانت اور طویل عزیز عمریں قرآن کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے کے لیے صرف کیں، وہ بھی آخر کار یہ ماننے پر مجبور ہوگئے کہ یہ کتاب ہر قسم کی تحریف اور تغیر سے پاک ہے۔

TOPPOPULARRECENT