Friday , September 22 2017

قران

اے ایمان والو ! اگر تم ڈرتے رہوگے اﷲ سے تو وہ پیدا کردے گا تم میں حق و باطل میں تمیز کی قوت اور ڈھانپ دیگا تم سے تمہارے گناہ اور بخش دیگا تمہیں اور اﷲ بڑے فضل ( وکرم) والا ہے ۔ (سورۃ الانفال ۔ ۲۹)
اﷲ تعالیٰ اپنے پرہیزگار بندوں کو جن انعامات سے سرفراز فرماتا ہے اس آیت میں ان کا بیان ہے ۱۔نعمت فرقان،۲۔ سترعیوب،۳۔آمرزش گناہ ۔ فرقان مصدر ہے اور حق و باطل میں تمیز کرنے والی قوت کو فرقان کہتے ہیں ۔ عارفین کاملین کا ارشاد ہے کہ ذکر الٰہی سے ایک نُور پیدا ہوتا ہے جس سے حقائق اشیاء منکشف ہوجاتی ہیں اور غلط و صحیح میں بین فرق محسوس ہونے لگتا ہے ۔ صُوفیائے کرام کی اصطلاح میں اسے کشف کہتے ہیں(مظہری) ۔ اور حضور علیہ افضل الصلوٰۃ واجمل التسلیمات کے اس ارشادِ گرامی میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ’’مومن کی فراست سے ڈرا کرو وہ تو اﷲ کے نُور سے دیکھتا ہے ‘‘۔ پرہیزگاروں پر دوسرا انعام یہ کیا جائے گا کہ ان کے گناہوں کو چھپادیا جائے گا تاکہ کسی کی نگاہ ان پر نہ پڑسکے ۔ اﷲ تعالیٰ کا پرہیزگاروں پر یہ کتنا کرم ہے کہ عالم غفلت میں ان سے جو گناہ سرزد ہوئے ان کو وہ اپنے کرم کی چادر سے ڈھانپ دے اور کسی کو ان گناہوں کی اطلاع تک نہ ہو ۔ ان نیک بختوں پر جو تیسرا احسان فرمایا جائیگا وہ یہ ہے کہ اگر بشری تقاضوں کے باعث ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے ، کسی جُرم کا وہ ارتکاب کر بیٹھیں تو اس پر قلم عفو پھیر دیا جائے گا اور اسے بخش دیا جائے گا ۔ یعنی اپنے پرہیزگاربندوں پر اس کی یہ بخشش ہائے بے انداز محض اس کا فضل و کرم ہے ۔ کسی کا اس پر کوئی حق نہیں جس کا ادا کرنا اﷲ تعالیٰ پر واجب ہو ۔ راہ تقویٰ پر گامزن ہونا بھی تو محض اس کی توفیق و دستگیری کا ہی مرہون منت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT