Saturday , April 29 2017

قران

یہ دریافت کرتے ہیں آپ سے روح کی حقیقت کے متعلق (انھیں ) بتائیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور نہیں دیا گیا ہے تمھیں علم مگر تھوڑا سا۔                                                                                    (سورۃ الاسریٰ ۔۸۵)
اس آیت کی شان نزول کے متعلق دو روایتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ یہود کی انگیخت پر مشرکین مکہ نے روح کی حقیقت کے بارے میں حضور رحمت عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا۔ دوسری یہ کہ ہجرت کے بعد جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے تو وہاں کے احبار یہود نے اس معمہ کا حل امتحاناً دریافت کرنا چاہا۔ بہرحال یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس کی خلش ہر غور و فکر کرنے والا اپنے دل و دماغ میں محسوس کرتا تھا۔ چنانچہ ہر زمانہ کے فلسفیوں نے اس معمہ کو حل کرنے کی انتہائی کوشش کی لیکن ہر کوشش نے اسے پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا دیا۔ یہی سوال جب بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا تو زبان قدرت نے اس کا یہ مختصر لیکن جامع جواب دے کر تمام اوہام و شکوک کا درازہ بند کر دیا۔ یعنی روح میرے رب کا امر ہے ۔ ہمارے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ انہوں نے روح کے متعلق دریافت کیا اور حضور نے اس کا کما حقہ جواب دیا۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ اس آیت کے ضمن میں بڑی تفصیلی بحث کے بعد لکھتے ہیں کہ اس آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور کو ،حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ارباب بصیرت اطاعت کیشوں کو روح کا علم نہ تھا۔ کیونکہ ان نفوس قدسیہ کا علم صرف حواس اور کسب و اکتساب سے ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ حواس اور کسب واکتساب کے بغیر اشیاء کے حقائق کا علم انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کیا جاتا ہے ۔    حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے روح کے معنی پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اطباء کے نزدیک روح کی تعریف یہ ہے کہ روح ایک جسم لطیف ہے جس کا منبع تجویف قلب ہے۔ جو بدن میں پھیلی ہوئی رگ و ریشہ کے ذریعہ جسم کی ہر جز میں سرایت کر جاتا ہے ۔یعنی یہ ایک لطیفہ ہے جو علم اور ادراک کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی کے متعلق اس آیت میں اشارہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک عجیب راز ہے جس کی حقیقت کو سمجھنے سے بیشتر عقلیں قاصر ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT