Tuesday , May 30 2017

قران

وہ نبی حکم دیتا ہے انھیں نیکی کا اور روکتا ہے انھیں برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور (کاٹتا ہے) وہ زنجیریں جو جکڑے ہوئے تھیں انھیں …(سورۃالاعراف ۱۵۷)
اعمال شدیدہ کا جو عہد بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تشریف آوری سے وہ اس سے آزاد کر دئیے گئے۔ ان کی شریعت کے چند احکام یہ تھے کہ اگر کسی کپڑے پر پیشاب وغیرہ گر جائے تو اس حصہ کو کاٹ دینا پڑتا تھا۔ ایام حیض میں عورت کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا تک ممنوع تھا۔ مال غنیمت کا استعمال جائز نہ تھا بلکہ اس کو ایک جگہ کرکے نذر آتش کر دیا جاتا تھا۔  اغلال جمع ہے اور اس کا واحد ’’غل‘‘ ہے اس کا معنی ہے زنجیر۔ اس سے مراد بھی شریعت موسوی کے شدید اور سخت احکام ہیں مثلا یوم سبت کو ہر دنیاوی کام کی ممانعت تھی۔ اگر کوئی کسی کو قتل کر دیتا تو دیت کی گنجائش نہ تھی بلکہ قاتل کو بطور قصاص قتل کر دینا ضروری تھا۔ اسی طرح کئی دیگر احکام تھے۔ لیکن رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد سے ان تمام میں تخفیف اور نرمی کر دی گئی۔ اگر کپڑا پلید ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کے لیے دھونا ہی کافی ہے۔ حائضہ عورت سے صرف ہم بستری ممنوع قرار دی گئی۔ دوسری پابندیاں ہٹا دی گئیں۔ قاتل سے دیت بھی قبول کرنے کی اجازت دی گئی ،مال غنیمت کا استعمال حلال کر دیا گیا ۔ کتنی آسانیاں اور نرمیاں کر دی گئیں۔ ہزارہا ہزار صلاۃ وسلام اس طلعت زیبا پر جس کی آمد سے گلشن عالم میں بہار آگئی۔ جس کے ظاہر ہونے سے کائنات میں اجالا ہوگیا۔ تو ہمات کے قفس ٹوٹ گئے۔ غلامی کی زنجیریں کٹ گئیں۔ اور انسان کو شرف انسانیت سے آشنا کر دیا گیا۔ (قرطبی)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT