Wednesday , October 18 2017

قران

وہ کہنے لگے (اے ہود!) کیا تم اس لیے آئے ہو ہمارے پاس کہ ہم عبادت کریں ایک اللہ کی اور چھوڑ دیں ان (معبودوں) کو جن کی عبادت کیا کرتے تھے ہمارے باپ دادا سو لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم سچے ہو۔ (سورۃ الاعراف ،۷۰)
کسی چیز کو ماننے یا نہ ماننے کےلئے وہ اپنی عقل ناقص کے فتوی کے پابند تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکتی تھی کہ اس کارخانہ ہستی کے مختلف نوعیت کے بیحدوبے حساب کام ایک ذات کی مشیت وارادہ سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے تو ہر کام کے لئے الگ الگ معبود بنا رکھے تھے۔ اور اس باطل کو حق یقین کرنے کے لئے ان کے پاس ایک اور زبردست سہارا تھا وہ یہ کہ ان کے آباؤ اجداد کا یہی عقیدہ تھا اور وہ کسی قیمت پر ان کی اندھی پیروی سے دستکش ہونے پر آمادہ نہ تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے نبی کی پندو نصیحت کو بڑی سرد مہری سے ٹھکرا دیا۔ اور انھیں صاف صاف کہہ دیا کہ جس عذاب کی تم ہمیں ہر وقت دھمکیاں دیتے رہتے ہو اسے لے آؤ۔ ایسا برتاؤ کوئی اس قوم کی ہی خصوصیت نہیں ،جب کبھی حق و صداقت کے کسی علم بردار نے اپنی قوم کو ان کی غلط روی سے روکا تو انھوں نے کم و بیش ایسا ہی جواب دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر آباء و اجداد گمراہ ہوں تو آنکھیں بند کیے ہوئے ان کے پیچھے دوڑتے چلے جانا کوئی عقلمندی نہیں۔ لیکن اگر آباؤ اجداد حق پر ہوں بلکہ حق کے علم بردار رہے ہوں اور ان کی زندگیاں، ان کا عمل اور ان کا وجود ہی اسلام کی حقانیت کی روشن دلیل ہو جیسے بفضل اللہ تعالیٰ اہل سنت و جماعت کے اسلاف کرام تھے تو ان کی اقتداء اور پیروی عین ہدایت اور سعادت ہے۔ حضرت غوث اعظمؒ، حضرت خواجہ اجمیرؒ، حضرت داتا گنج بخش ؒو دیگر وہ روشن چراغ ہیں جن کی درخشانیوں اور تابانیوں کے باعث صراط مستقیم منور ہے۔

TOPPOPULARRECENT