Saturday , September 23 2017

قران

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان کی اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا (ہمارے رسولوں کو ) تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کیا کرتے تھے۔تو کیا بےخوف ہو گئے ہیں ان بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اس حال میں کہ وہ سورہے ہوں۔
یعنی ایمان اور تقوی کسی قوم کی ترقی کے راستہ میں حائل نہیں ہوتے جیسے عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کے باعث تو رحمت الٰہی کا دریا جوش میں آجاتا ہے اور ہر جانب سے خیر و برکت کی فراوانی ہو جاتی ہے۔ زمین اپنے شکم میں پوشیدہ خزانوں کو اس کے قدموں میں ڈھیر کردیتی ہے اور آسمان اپنی نعمتوں اور برکتوں کو بےدریغ نچھاور کر دیتا ہے۔
ترجمہ: ہم ہر طرف سے ان پر خیر و برکت کی فراوانی کر دیتے اور جو نعمتیں انھیں بخشی ہیں وہ ہمیشہ برقرار رہتیں۔ (مظہری)
برکات آسمان سے مراد بارش ہے۔ اور برکات زمین سے مراد زراعت و نباتات ہے۔ اے مکہ اور اس کے اردگرد بسنے والو ! پہلے نبیوں کو جھٹلانے والی قوموں کا یہ انجام ہوا۔ اگر تم میرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان نہ لائے اور اُن کی مخالفت پر کمر بستہ رہے تو کسی وقت بھی تم پر عذاب نازل کر دیا جائے گا اور تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی جائے گی۔ (قرطبی)

TOPPOPULARRECENT