Saturday , October 21 2017

قران

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو افترا باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا یا جھٹلائے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو۔  بیشک مجرم فلاح نہیں پاتے۔ (سورہ ٔ یونس : ۱۷)
گناہ طرح طرح کے ہیں۔ کوئی چھوٹا کوئی بڑا ، لیکن اس سے بڑا اور کوئی گناہ نہیں کہ کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے کوئی شخص کسی کلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دے۔ تم میرے دامن کی پاکی اور اخلاق کی بلندی اور سیرت کی پختگی کے عینی شاہد ہو۔ کیا تم باور کرسکتے ہو کہ جو شخص اتنا عرصہ چھوٹے چھوٹے گناہ سے بھی اپنا دامن بچاتا رہا ہو وہ اچانک ایسے گناہ کے ارتکاب کی جرأت کرے جس سے بڑا اور کوئی گناہ نہیں ۔ نیز یہ بھی یاد رکھو کہ جس طرح کسی کو ناحق اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ظلم عظیم ہے اسی طرح اس کے نازل فرمائے ہوئے قرآن کا انکار بھی ظلم عظیم ہے۔
اگر میں اللہ تعالیٰ کی طرف غلط بات منسوب کروں تو میں مجرم اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی بات کا انکار کرو تو تم مجرم۔ اور حقیقت ہے کہ کوئی مجرم کامگار و کامران نہیں ہو سکتا۔ اب خود دیکھو کہ فلاح و کامیابی کا تاج کس کے سر پر ہے اور ناکامی و نامرادی کی ذات کس کے منہ پر۔ تمہیں راست باز اور مجرم کے پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT