Wednesday , June 28 2017

قران

اے لوگو! آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے اور (آگئی ہے ) شفا ء ان روگوں کے لیے جو سینوں میں ہیں اور (آگئی ہے ) ہدایت اور رحمت اہل ایمان کے لیے۔ (سورۂ یونس : ۵۷)
اس آیت طیبہ میں قرآن کریم کے فیوض و برکات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ موعظت: بڑے اخلاص سے نہایت اثر انگیز پیرایہ میں کسی کو نیکی اور بھلائی کی یاد دہانی کو موعظت کہتے ہیں وقال الخلیل ھو التذکیر بالخیر فیما یرق لہ القلب (مفردات) اس مفہوم کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن حکیم کی اس صفت کا جائزہ لیجئے۔ خیرخواہی اور خیر اندیشی کا بےلوث جذبہ ہر آیت میں آپ کو نظر آئے گا۔ جس کی اثر انگیزی کا یہ عالم ہے کہ اس نے صدیوں سے آغوش غفلت میں مدہوش ہونے والی قوم کو بیدار کر دیا۔ قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ سینوں کی لاعلاج اور پرانی بیماریوں کا کامیاب علاج ہے۔ بغض و عناد، شک اور نفاق، حسد اور کینہ غرض یہ کہ ہر قسم کی مذموم صفات سے روح کو پاک کرتا ہے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ یہ سراپا ہدایت ہے۔ حق و باطل کو نکھار کر پیش کرتا ہے۔ کسی قسم کا التباس نہیں رہتا اور حق کا متلاشی راہ ہدایت کو اپنے سامنے منور اور ہموار پاتا ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ پیکر رحمت ہے جس کتاب مقدس کالانے والا رحمۃ للعلمین ہو اس کتاب کے رحمت مجسم ہونے میں کسے شبہ ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT