Thursday , August 17 2017

قران

کہا ایک گروہ نے اہل کتاب سے کہ ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو اُتاری گئی ایمان والوں پر صبح کے وقت اور انکار کردو اس کا سرِشام شاید (اس طرح) وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں۔ (سورۂ آل عمران۔۷۲)
دلائل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد یہود کے مذہبی رؤسا نے لوگوں کو دینِ حق سے برگشتہ کرنے کے لئے ایک گہری سازش سے کام لینا چاہا۔ انھوں نے سوچا کہ اور کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوتی، لہذا اب یوں کریں کہ اپنے چند خاص چیلے مسلمانوں کے پاس بھیجیں، جو وہاں جاکر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیں۔ پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ مرتد ہو جائیں اور اس کا خوب چرچا کریں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ان کے ایسے عیوب اور کوتاہیاں ہم پر آشکارا ہوئی ہیں کہ ہم اس دین کو ترک کرنے پر مجبور ہو گئے، جس کو ہم نے کچھ عرصہ پہلے بڑے شوق اور بڑی محبت سے قبول کیا تھا۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو آج دَھڑا دَھڑ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں، ٹھٹک کر رہ جائیں گے (یعنی لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی رفتار کم ہو جائے گی) اور وہ ایک بار پھر یہ سوچنے لگیں گے کہ جس دین کو اس کے ماننے والے ایک ایک کرکے چھوڑ رہے ہیں، وہ سچا دین نہیں ہے۔ یہود کی یہ سازش بڑی خطرناک تھی اور نفسیاتی طورپر اس کا بڑا بُرا نتیجہ نکلتا، لیکن دانا و بینا خدا نے ان کے اس دام ہمرنگِ زمین کو پہلے ہی نمایاں کرکے مسلمانوں کو ہوشیار کردیا اور اس طرح یہود کی یہ گہری چال ناکام ہوکر رہ گئی۔

TOPPOPULARRECENT