Saturday , July 22 2017

قران

(اے حبیب!) فرمائیے اے لوگو !بیشک آگیا ہے تمھارے پاس حق تمھارے رب کی طرف سے تو جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ ہدایت قبول کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنی تباہی کے لیے اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔اور (اے حبیب!) آپ پیروی کرتے رہیں جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور (ظلم کفار پر) صبر کیجیے یہاں تک کہ فیصلہ فرمادے اللہ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
اے مکہ کے باشندو! اے عرب کے رہنے والو! بلکہ اے آدم کی ساری اولاد! کان کھول کر سن لو۔ مطلع ہدایت پر آفتاب محمودی طلوع ہو چکا۔ نیکی کی شاہراہ جگمگا اٹھی۔ شک و شبہ کی دھند دور ہوگئی۔ تبلیغ حق کا حق ادا کر دیا گیا۔ اب تمہاری مرضی دعوت حق کو قبول کر و یا گمراہی کے گڑھے میں پڑے رہو۔ تم کوئی سا طرز عمل اختیار کرو تم آزاد ہو۔ لیکن ایک بات یاد رہے کہ اگر رشد و ہدایت کا راستہ اختیار کرو گے تو تمہارا اپنا بھلا ہوگا۔ اور غلط روی سے باز نہ آئے تو اس کا نقصان بھی صرف تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب میں تمہارے کاموں کا   ذمہ دار نہیں۔ تم جانو اور تمہارا کام جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کریم علیہ وعلیٰ آلہ افضل الصلوٰۃ واجمل التسلیم کو ارشاد فرماتے ہیں کہ اے حبیب! آپ ان لوگوں کی پرواہ نہ کریں۔ جو وحی آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے بےخوف و خطر اس پر عمل پیرا رہیں۔ ان کی اذیت رسانیوں اور دلآزاریوں پر صبر فرماتے رہیں۔ فیصلہ کی گھڑی آرہی ہے فیصلہ کرنے والا خود رب العلمین ہوگا اور وہی سب سے بہتر اور صحیح فیصلہ فرمانے والا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT