Saturday , August 19 2017

قران

اس نے پیدا فرمایا آسمان کو اور زمین کو حق کے ساتھ وہ برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں۔اس نے پیدا فرمایا انسان کو نطفہ سے پس اب وہ برملا جھگڑالو بن گیا ہے۔ (سورۃ النحل ۔آیات ۳اور۴)
یہاں سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کے ان دلائل کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جو اتنے واضح اور یقین آفرین ہیں کہ اگر کوئی معمولی عقل و فہم رکھنے والا بھی غور کریگا تو اللہ تعالیٰ کی توحید کا اسے اعتراف کرنا ہی پڑیگا۔ ذرا غور تو کیجئے زمین و آسمان کا یہ کارخانہ کتنا وسیع ہے اور کتنے بےشمار پرزوں سے مرکب ہے ہر پرزہ چھوٹا ہو یا بڑا اپنی اپنی جگہ پر اس خوبی سے فٹ ہے کہ نہ کوئی پیچ ڈھیلا ہوتا ہے نہ کوئی گراری ٹوٹتی ہے ۔ہر چیز اپنا اپنا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ انسان اس محیر العقول کارخانہ کی پیچیدگیوں میں غور کرے تو سرچکرا جاتا ہے اور اگر حقیقت شناس نگاہ سے وہ یہ منظر دیکھے کہ ہر چیز ایک حلقہ بگوش غلام کی طرح تعمیل حکم میں مصروف ہے تو بےساختہ اس کی زبان سے یہ نکلتا ہے:۔ تبارک اللہ احسن الخالقین ۔ یہ حضرت انسان جس کے حسن وکمال کے سامنے چاند اور پھول نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں جس کی ہیبت سے جنگل کے شیر لرزہ براندام ہیں جس کی تسخیری قوتیں اب ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں۔ اس کی اصل کیا ہے؟ پانی کی ایک بوند۔ یہ رعنائی و دلبری، یہ زور و تنومندی، یہ قلب اور یہ دماغ کیا اس ایک قطرہ میں سموئے ہوئے تھے۔ جس ہستی نے ان حیرت انگیز گوناگوں صلاحیتوں کو یوں سمیٹا اور ان کی نشوونما کی، اس کے آستانہ عظمت پر سرنہ جھکایا جائے تو کہاں جھکایا جائے لیکن یہ انسان نہ اپنے اصل میں غور کرتا ہے اور نہ اس مربی کریم کے لطف و کرم کا اعتراف کرتا ہے بلکہ اس سے اور اس کے فرستادوں سے بات بات پر الجھتا ہے اور جھگڑتا ہے۔ ایک دن ابی بن خلف ایک بوسیدہ ہڈی لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ اس ہڈی کے متعلق ہمیں کہتے ہیں کہ اسے پھر زندہ کیا جائے گا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے تو مذکورہ یہ آیت نازل ہوئی۔ (مظہری)

TOPPOPULARRECENT