Saturday , August 19 2017

قران

اور اگر خوف کرو تم ناچاقی کا ان کے درمیان تو مقرر کرو ایک پنچ مرد کے کنبہ سے اور ایک پنچ عورت کے کنبہ سے، اگر وہ دونوں (پنچ) ارادہ کریں گے صلح کرانے کا تو موافقت پیدا کردے گا اللہ تعالی میاں بیوی کے درمیان، بے شک اللہ تعالی سب کچھ جاننے والا ہر بات سے خبردار ہے۔ (سورۃ النساء۔۳۵)
لیکن اگر آپس کی کوششیں اصلاح حال کے لئے مفید ثابت نہ ہوں اور ایسے آثار رونما ہونے لگیں کہ اگر صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو معاملہ طلاق پر جاکر ختم ہوگا تو اس وقت یا تو میاں بیوی اپنی اپنی طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کریں، جو ان کی شکایات سن کر ان کا باہمی تصفیہ کردیں یا دونوں کے خاندان ثالث مقرر کریں اور اگر معاملہ عدالت تک پہنچ گیا ہو تو پھر مسلم حاکم عدالت کو چاہئے کہ جلد بازی میں میاں بیوی کے درمیان تفریق نہ کردے، بلکہ حَکَم کے ذریعہ ان کے درمیان مصالحت کی بھرپور کوشش کرے اور اگر ان حَکموں نے خلوص نیت سے اصلاح کی کوشش کی تو توفیق الہی ضرور ان کے ساتھ شامل حال ہوگی۔ یعنی اگر میاں بیوی کے دلوں میں مصالحت کی خواہش ہے تو اللہ تعالی کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا فرمادے گا۔واضح رہے کہ پانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اچھی خواتین کے ساتھ ساتھ ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں، جو تُند مزاج اور کج فہم ہوتی ہیں۔ اسی طرح سارے مرد بھی یکساں نہیں ہوتے، ان میں بھی اچھے اور بُرے پائے جاتے ہیں، لہذا اللہ تعالیٰ نے آپسی تنازعہ دُور کرنے کے لئے دونوں طرف سے ثالث مقرر کرنے کا حکم فرمایا ہے، تاکہ وہ دونوں کے حالات کو سمجھ کر میاں بیوی کے درمیان مصالحت کروادیں۔

TOPPOPULARRECENT