Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / قرآن مجید ساری انسانیت کیلئے آب ِ حیات ہے

قرآن مجید ساری انسانیت کیلئے آب ِ حیات ہے

قرآن مجید، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس کلام مجید کو دوسرے کلاموں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو رب تبارک وتعالیٰ کو اپنی مخلوق پرہے۔ قرآن مجید ساری انسانیت کیلئے دستورحیات ہے، ضابطۂ حیات ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کیلئے آب حیات ہے۔یہ ساری انسانیت کو ہدایت دینے والی کتاب، بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے والی کتاب اور شیطان کی پیروی کرنے والوں کو خدائے تعالیٰ کی بندگی سکھانے والی کتاب ہے۔
قرآن مجید کا دیکھنا بھی عبادت، پڑھنا بھی عبادت اور پڑھانا بھی عبادت، سمجھنا بھی عبادت اور سمجھانا بھی عبادت،  سننا بھی عبادت اور سنانا بھی عبادت اور سب انسانوں کا اس قرآن مجید کے مطابق عمل کرنا بھی عبادت ہے، جس طرح لوہے کو کھینچنے کا آلہ مقناطیس ہوتا ہے، اسی طرح قرآن مجید، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رحمتوں کو کھینچنے کاآلہ مقناطیس ہے۔ قرآن مجید کی حفاظت اللہ رب العزت نے خود اپنے ذمہ لے لیا ہے، جیسا کہ ایک مقام پر ارشاد ہورہا ہے: ’’ہم نے یہ نصیحت نازل کی اور ہم ہی اس کی نگہبانی کرنے والے ہیں‘‘۔ (سورۃ الحجر آیت نو۔ ۹) اہل ایمان کے لئے اس قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنا بہت ہی آسان کردیا ہے۔ جیساکہ اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے ’’اور ہم نے قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تو پھر ہے کوئی سمجھنے والا‘‘۔ (سورۃ القمر آیت سترہ۱۷)۔
محدث دہلوی حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے دو درجے ہوتے ہیں۔
پہلا درجہ : عوام الناس کا ہے اور اسے بہت آسان کردیا گیا ہے۔ اس درجہ میں انسان کو اتنی سمجھ مل جاتی ہے کہ وہ ترغیب و ترہیب کی آیات اور قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں سمجھ لیتا ہے۔
دوسرا درجہ :راسخین فی العلم کا ہے۔ یہ حضرات آیات قرآنیہ کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور احکام الٰہیہ کے ہیرے موتی نکال لاتے ہیں، ان علماء کی پوری زندگی اسی تدبر و تفکر میں گزر جاتی ہے۔
قرآن مجید کا واضح معجزہ یہ ہے کہ اس چند آیات میں یا تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا نام آئیگا یا اس کی طرف ضمیر کا اشارہ کیا جائیگا۔ مثال کے طور پر: ٭ پارۂ اٹھائیس (۲۸) کے سورۂ مجادلہ کی ہر آیت میں لفظ ’’اللّٰہ‘‘ آتا ہے۔ ٭  پارۂ ستائیس (۲۷) کے سورۂ رحمن کی تقریبا آیتوں میں لفظ ’’رب‘‘ آتا ہے۔
بقیہ قرآن مجید کی ہر چند سطروں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر موجود ہے۔ یہ اعجاز تو صرف قرآن مجید کا ہی خاصہ ہے، اس طرح کا اعجاز دیگر آسمانی کتابوں میں نہیں پایا جاتا تھا۔ لہٰذا قرآن مجید کی تلاوت کی ایک بڑی جامع خوبی یہ ہے کہ اگر اس کی چند سطریں بھی پڑھ لی جائیں تو اللہ تعالیٰ کے نام کا کئی بار ورد ہوجاتا ہے۔ اسی لئے اس قرآن مجید کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس کلام کا بغیر سمجھے پڑھنا بھی اجر کا باعث ہے۔ قرآن مجید کی اسطرح کی خوبی کسی بھی الہامی کتاب میں نظر نہیں آتی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد مبارک ہے:
٭  قرآن مجید میں گزشتہ قوموں کے واقعات کی خبریں موجود ہے۔
٭  آئندہ کے متعلق پیشین گوئیاں ہیں۔
٭  احکام ہیں۔  ٭  اللہ تعالی کا ایک رشتہ استوار ہے۔
٭  فیصلے ہیں۔   ٭  تذکرہ اور حکمت ہے۔
٭  راہ ِ مستقیم ہے۔
٭  اس سے برائیوں کی طرف میلان نہیں ہوتا۔
٭  اور اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔
ارشاد بارئی تعالیٰ ہے :  اِن ھو اِلا ذکر للعلمین (سورۂ ص آیت اٹھیاسی ۸۸)۔ ترجمہ’’قرآن مجید تمام جہاں والوں کے لئے تذکرہ (نصیحت) ہے‘‘۔
بڑے بڑے عقلمند جن کو اپنی عقلوں پر ناز تھا، قرآن مجید کے آگے اپنی گردنوں کو جھکا چکے ، جھکا رہے ہیں اور تاقیامِ قیامت جھکاتے رہیں گے۔
تدبر و تفکر قرآن مجید کے چند اہم نکات
٭  قرآن مجید میں تدبر و تفکر نہ کرنا قساوت قلبی کی نشانی ہے۔
(بطور مثال دیکھئے سورۂ محمد آیت نمبر چوبیس ۲۴)۔
٭  قرآن مجید کی تعلیمات سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے دلوں میں اس کلام اللہ کی طلب، لگاؤ اور جستجو ہو۔
(بطور مثال دیکھئے سورۂ ق آیت نمبر سینتیس ۳۷)۔
٭  جس انسان کے دل میں روز محشر کا خوف ہوتا ہے اس قرآن مجید کے ذریعہ اس پر قرآنی تعلیمات کا گہرا اثر بہت جلد ہوتا ہے۔
(بطور مثال دیکھئے سورۂ ق آیت نمبر پینتالیس ۴۵)۔
٭  جو لوگ قرآنی تعلیمات کو نظر انداز کرکے خواہشات کی پیروی کریں گے ان کو قیامت کے دن اس کا حساب چکانا پڑیگا۔
(بطور مثال دیکھئے سورۂ الفرقان آیت نمبر تیس ۳۰)۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
[email protected]

TOPPOPULARRECENT