Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / قرآن مجید کی تلاوت اور عمل پر سماجی بُرائیوں کا خاتمہ ممکن

قرآن مجید کی تلاوت اور عمل پر سماجی بُرائیوں کا خاتمہ ممکن

علیگڑھ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کا یوم سرسید، ڈاکٹر اسلم پرویز کا خطاب
حیدرآباد۔4ڈسمبر(سیاست نیوز)قرآن کو سمجھ کر پڑھنا او راس پر عمل کرنے سے ہی سماجی برائیوں کاخاتمہ ممکن ہے ۔ قرآن نے ہمیں دینے والا بتایا ہے مگر آج ہم مانگنے پر مجبور ہیں اور اس کی وجہہ قرآنی تعلیمات سے روگردانی ہے ۔ آج ہم لاکھوں روپئے اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خرچ کرتے ہیں مگر ہمیںاسبات کاذرا بھی احساس نہیںرہتا کہ ہمارے پڑوس میں اور معاشرے کے اندر ایسے کئی یتیم بچے او ربیوہ عورتیں ہیں جن کے پاس تعلیم حاصل کرنا تو دور کی بات دووقت کی روٹی میسر نہیں ہے ۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے ایسے لوگ جو سماج کے یتیم بچوں او ربیوہ عورتوں کی پریشانیوںکو نظرانداز کرکے لاکھو ں روپئے اپنے آرام وآسائش پر خرچ کرتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالی نے سخت عذاب کا انتباہ دیا ہے۔سر سید علیہ الرحمہ نے مسلم یونیورسٹی کے قیام اور تفسیر قرآن کے ذریعہ یہی پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ مسلمانو ںکے لئے وقت کی اہم ضرورت قرآن جوساری انسانیت کے لئے راہ ہدایت ہے اس کو سمجھ کرپڑھنا اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنا ہے۔علیگڑھ اولڈ بوائز اسوسیشن کے زیر اہتمام ‘ اردو ہال ‘ حمایت نگر میں منعقدہ یوم سرسید میںمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی جناب اسلم پرویز ان خیالا ت کااظہار کررہے تھے۔ یوم سر سید کا آغاز جناب قاری اقبال علی خان کی قرات کلام پاک سے ہوا اور صدارت جناب آصف پاشاہ نے کی ۔ اس کے علاوہ جناب احسن رضا آئی پی ایس ‘ ڈاکٹر محمد عثمان احمداور جناب شاہد حسین نے بھی یوم سر سید سے خطاب کیا۔ مورخ جناب سجا دشاہد نے تقریب کی کاروائی چلائی۔جناب عبدالقادر شکیب‘ مولانا حامد محمد خان‘ جناب اسلام الدین مجاہد‘ جناب اکبر علی خان کے علاوہ شہر حیدرآباد کی معزز شخصیتوں نے بھی اس تقریب میںشرکت کی۔جناب آصف پاشاہ نے اپنے صدارتی خطاب میںکہاکہ سرسید کا کارنامہ بالخصوص تعلیمی ادارے کے قیام کو ہم کبھی فراموش نہیںکرسکتے۔انہوں نے کہاکہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے بڑوں کی نافرمانی نہیںکرتے۔ جناب احسن رضا آئی پی ایس نے یوم سرسید سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سرسیدایک تحریک کا نام ہے اور جو بھی اس تحریک سے جڑا اسے مقبولیت حاصل ہوئی ۔ انہو ںنے کہاکہ سرسید کا ثانی بننے کی بہت ساروں نے کوشش کی مگر وہ یہ بھول گئے کہ سرسید نے اپنے کنبے اور معیشت کو سدھارنے کے لئے تعلیمی اداروں کاقیام عمل میں نہیںلایا۔انہوں نے کہاکہ سال میں ایک بار یوم سرسید منانے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیںہے ہمیںسرسید کے کارناموں سے نوجوان نسل کو واقف کرانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT