Wednesday , July 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / قرآن میں ہوغوطہ زن اے مرد مسلماں

قرآن میں ہوغوطہ زن اے مرد مسلماں

رمضان پاک کی آمدکی خصوصی مناسبت کے تناظرمیں
قرآن مجید اللہ سبحانہ کا معجزانہ کلام ہے جوانسانیت کی صلاح وفلاح کیلئے خاتم النبیین سیدالمرسلین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺپر نازل کیا گیاہے،قرآن مجیدصحیفہء ہدایت بھی ہے اورعلم ومعرفت کا چشمہء فیضان بھی،جدید وقدیم علوم وفنون کا منبع فیض بھی ،ہر دورمیں ہونے والی نئی نئی تحقیقات وایجادات سب کی سب اسی کتاب مبین کی رہین منت ہیں۔اس صحیفہء ربانی میں جہاں ہدایت کا نورہے وہیں قیامت تک آنے والی ساری انسانیت کے مسائل کاحل بھی موجودہے۔اس کلام ربانی میں ایک ایسی فطری کشش وجاذبیت ہے جو ذہن ودل کو اپنی طرف کھینچتی ہے،کتاب منیرکی آیات کی تلاوت اپنوں ہی کو نہیں بیگانوں کو بھی مسحورکرتی ہے۔ایمان کے نورسے جن کے سینے منورہیں وہ اسکی تلاوت کے فیض سے اپنے رب سے ہم کلامی کا شرف پاتے ہیں،قرآن مجیداللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام حق ہے اس سے جسکی جتنی زیادہ نسبت ہوگی وہ اتناہی بارش فیضان میں نہارہاہوگا۔قرآن پاک کی نسبت کی برکت ذرہ بے مقدار کو رشک آفتاب بناتی ہے ،ایک حقیر قطرہ کو بحربے پیدا کنار میں تبدیل کرتی ہے، بے نواوفقیرکوتاج سلطانی کا مستحق بناتی ہے،روحانیت  کے پیاسے کوسیرابی بخشتی ہے،مردہ دل جس سے زندہ ہوتے ہیں ،ذہین وفطین ہی نہیں بلکہ کندذہن بھی اس سے جلاپاتے ہیں۔قرآن مجیدکا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے،نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکی بعثت مبارکہ سے اس پہلوکو بہت اجاگرکیا گیاہے،انسان کو حقیقی معنی میں انسان بنانا اورانسانی سینوں کو معرفت ربانی کی جلوہ گاہ بنانا اس کتاب ہدایت کا مقصد اولین ہے۔تلاوت آیات ،تعلیم کتاب وحکمت اورتزکیہ نفس وہ بنیادی عناوین ہیں جوکتاب ہدایت کا مرکزی نقطہ ہیں،یہی وہ بنیادی کا م ہے جس کو سیدنامحمد رسول اللہ ﷺاس عارضی وفانی دنیاسے رخصت ہونے تک انجام دیتے رہے،اوراسی کام کا اس خیرامت کو پابندکیا گیاہے۔اس فریضہ منصبی کو اداکرنے کا ہرایک ذمہ دارہے،اس ذمہ داری کو نبہانے کیلئے تلاوت آیات کا اہتمام ،اسکے معانی ومفاہیم کا جاننا اوراسکے مطابق عملا اپنے آپ کو ڈھالنا، نفس جوانسان کا دشمن ہے اگر وہ نفس امارہ کی منزل میں ہوتواپنے نفس پر جبرکرکے اسکی خرابیوں کو دورکرنا، اسکو خوبیوں کا خوگربنانے کی جہد مسلسل جاری رکھنا اوراس مجاہدہ کے اختیار کرنے میں ذکرواذکار،اعمال صالحہ پر مداومت سے مددحاصل کرنا افراد امت کا نصب العین ہونا چاہئے۔بعثت مبارکہ کے ان اہم ترین مقاصدکی تفصیل پورے قرآن پاک میں دیکھی جاسکتی ہے،ان مقاصدعظمیٰ کی تکمیل کی نعمت جن کے حصے میں آجاتی ہے وہ ہواوہوس کی بندگی سے نکل کر اپنے معبود حقیقی کی بندگی کا پیکرجمیل بن جاتے ہیں،کینہ وعداوت،غروروتکبر،خودسری وانانیت سے جن کے دل پاک وصاف ہوتے ہیں اللہ سبحانہ کی محبت خلق خداکی دردمندی وچارہ سازی انکا نصب العین بن جاتی ہے۔اللہ سبحانہ کی رضاء وخوشنودی کیلئے اپنی ،اپنے اہل خانہ کے اصلاح کے ساتھ انسانیت کی اصلاح وہدایت انکو بے چین کئے دیتی ہے، انسانیت کی گمراہی سے وہ تڑپ اٹھتے ہیں ،اللہ کی زمین پر اسکی نافرمانی انکو ایک آنکھ نہیں بھاتی ، کفروشرک ،ظلم وجور،فسق وفجور،قتل وخون ،تشددوبربریت،درندگی وسفاکی ،جہالت ولاعلمی، افتراق وانتشار،بغض وعناد،عداوت ودشمنی ایسی کتنی برائیا ں ہیں جو انسانی سماج کو اپنے لپیٹ میں لے رکھی ہیں۔انسانی معاشرہ ان اخلاقی خرابیوں سے جھلس رہاہے،کرئہ ارض سے چین وسکون رخصت ہے، اسکا علاج نہ آہ! وفغاںسے ممکن ہے نہ نالہ وشیون سے۔قرآن پاک کی تلاوت یقینا ایک مقدس عبادت ہے،صحت اداکے ساتھ اسکی تلاوت کا اہتمام ہونا چاہئیے صحت اداکے ساتھ حسن صوت کی نعمت بھی پسندیدہ ہے،سیدنامحمد رسول اللہ ﷺنے خوش الحانی وخوش آوازی کو پسندفرمایا ہے کیونکہ حسن صوت سے قرآن پاک کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے ’’حسنوا اصواتکم بالقرآن فان الصوت الحسن یزیدالقرآن حسنا ‘‘(شعب الایمان للبیہقی:۳؍۴۶۱) قرآن پاک کو جو خوش الحانی سے تلاوت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ’’لیس منا من لم یتغن بالقرآن‘‘ (مسنداحمد:۳؍۷۵) یعنی وسعت وقدرت کے باوحودتلاوت قرآن میں حسن صوت کاعدم لحاظ نامناسب  ہے،تاہم تکلف وتصنع کے بغیراسکی طرف خصوصی توجہ ا ور اسکااہتمام ہونا چاہئیے۔قرآن پاک کے اس عظیم حق کے ساتھ قرآنی آیات میں فکروتدبر کرنا اوراسکے معانی ومفاہیم کی سمجھ پیداکرنا بھی ایک بڑاحق ہے۔یقینااسمیں غوروفکر سے معرفت کی راہیں کھلتی ہیں،فکرونظر کو جلاملتی ہے،اعتقادات کی اصلاح ہوتی ہے، اعمال صالحہ کی صاف وسیدھی راہ منکشف ہوتی ہے،حق نکھرکر سامنے آجاتا ہے۔ اسی لئے قرآن پاک میں غوروفکرکی دعوت دی گئی ہے’’کیا وہ قرآن پاک میں غورنہیں کرتے ‘‘ (النساء:۸۲)۔’’کیا یہ قرآن پاک میں غوروفکرنہیں کرتے یا یہ کہ انکے دلوں پر تالے لگادئیے گئے ہیں‘‘(محمد:۲۴)قرآن پاک کا صحیح فہم ان کو نصیب ہوتا ہے جوعجزونیازکے ساتھ دربار الہی میں رجوع رہتے ہیں ،مصائب وآلام ،حوادثات زمانہ انکے رجوع الی اللہ رہنے میں مانع نہیں ہوتے ،وہ ہر آن عبدیت وبندگی کے ذوق سے سرشار صاحب قرآن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اورانکے اصحاب باصفاء رضی اللہ عنہم کی توضیحات سے خوشہ چینی کرتے رہتے ہیں ۔ ارشادباری ہے’’رحمن سے جو غائبانہ خوف وخشیت رکھتے ہیں اورجو ایسا دل لئے ہوئے آئے جو یاد الہی کی طرف متوجہ تھا‘‘ (قٰ:۳۳ ) ’’نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف رجوع رہتے ہیں‘‘ (المؤمن:۱۳)۔ ’’یقینا اس میں انکے لئے نصیحت کا سامان ہے جو دل بینا رکھتے ہوں یا کلام الہی کو پوری طرح توجہ کے ساتھ سنتے ہوں‘‘(قٰ:۳۷) قرآن کریم کی ہدایات اللہ کی جناب میں رجوع رہنے والوں کے قلوب کیلئے گویا آبررحمت کا خزینہ ہیں،قرآن کریم سے ایسی نسبت اللہ سبحانہ کی کرم نوازیوں کے درکھولتی ہے،قرآن اک ایسا روحانی چشمہء شیریں ہے جس سے تشنہ روحوں کی پیاس بجھتی ہے ، قرآن یقینا آب حیات ہے جس کا ایک قطرہ جاں بلب روحوں کو زندگی بخش سکتاہے ، تاریک دلوں کوکتاب مقدس کی روشنی گمراہیت کی تاریک راہوں میں ٹھوکریں کھانے سے بچاتی ہے،کتاب ہدایت کی الہی تعلیمات باطل کے ایوانوں کو لرزہ براندام کردیتی ہیں،آیات قرآنی کی تلاوت اوراسکی تفہیم دلوں کو شادکام کرتی اورتسکین وطمانیت بخشتی ہے۔قرآن پاک کی سچی نسبت الطاف خسروانہ کا مستحق بناتی ہے ،عنایات،نوازشات اورانعامات الہی سے دامن بھر دیتی ہے،سربلندی وسرفرازی ،قرآن پاک کی نسبت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ،رمضان المبارک کی آمد ہی کے ساتھ قرآن پاک کی نسبت کے جلوؤں کا اظہارہونے لگتا ہے ، قرآن تو ساری انسانیت کیلئے پیغام رشد وہدایت ہے ،قرآن پاک کی روشنی حق وباطل کے درمیان فرق کرنا سکھاتی ہے،اس سے روشنی حاصل کرنے والے انسان ہی حقیقی معنی میں منعم حقیقی کی نعمتوں کے شکرگزاربن سکتے ہیں۔رمضان پاک کے مبارک مہینہ میں روزہ اورقرآن کی نسبت سے شکرگزاری کے جذبات فروغ پاتے ہیں،جسکی وجہ اہل ایمان دن میں روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اورراتوں کو نماز تراویح میں قرآن پاک سنتے اورسنا تے ہیں ۔اس مناسبت سے امت کی اصلاح کی فکررکھنے والے قرآنی مفاہیم کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،تراویح میں جو کچھ قرآن سنا جاتا ہے اس حصہ سے قرآنی آیات کا مفہوم اوراسکا خلاصہ قرآن سننے والوں کو سمجھانے کیلئے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ظاہر ہے ہر کوئی یہ کام انجام نہیں د ے سکتا،اورمفصل تفاسیرسے کم وقت میں تراویح کی رکعتوں میں تلاوت کئے جانے والے کامل     حصہ ء قرآن کے مفاہیم ومطالب نہیں بیان کئے جاسکتے ،اسلئے اکثرصاحبان علم نے ’’تراویح نامہ‘‘کے عنوان سے آیات قرآنی کے مطالبات کو بطورخلاصہ اختصارکے ساتھ قلمبند کیا ہے قرآن پاک میں جتنی سورتیں ہیں رکوع بہ رکوع اسکا خلاصہ پیش کرنے کی اسمیں کوشش کی ہے تاکہ مختصر وقت میں اس سے استفادہ کیا جاسکے۔ نماز تراویح کی چاررکعات میں جتنے رکو ع کی تلاوت کی جاتی ہے ترویحہ میں اتنے رکو ع کا خلاصہ سنا یا جا سکتاہے ،اورجو اصحاب بالخصوص رمضان پاک میں اورعام دنوں میں تلاوت قرآن کا التزام رکھتے ہیں وہ بھی فہم قرآن کی غرض سے اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔قرآن پاک سے نسبت قائم کرنے کا یہ زرین موقع ہے اسکی تلاوت وسماعت کے اہتمام کے ساتھ اسکے معانی ومفاہیم میں غوطہ زن ہوکر قرآنی کرداردنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتاہے ،نزول قرآن کا مقصدعین یہی ہے کہ ساری انسانیت اس سے فیضیاب ہو، ہدی للناس کا مژدہ جاں فزاںساری انسانیت کیلئے ہے،انسانی کردارکی بلندی کا قرآن کے بغیرکوئی تصورممکن نہیں اسلئے تقوی وپر ہیزگاری کے  مؤمنانہ کردارکے ساتھ جوقرآن سے وابستہ ہوتے ہیں وہی حقیقی معنی میں اس سے فیضیاب ہوسکتے ہیں اورساری انسانیت کو قرآن کے چشمہء فیضان سے قریب کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔علامہ اقبال ؔرحمہ اللہ کی دردوفکرمیں ڈوبی ہوئی آرزو دعاء کے قالب میں ڈھل گئی ہے،اللہ سبحانہ اسکو قبول فرمائے ،ہم سب اس پر آمین کہیں۔
قرآن میں ہوغوطہ زن اے مردمسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT