Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / قرآن

قرآن

نہیں ہے تم پر کوئی حرج (اگر حج کے ساتھ ساتھ) تم تلاش کرو اپنے رب کا فضل (رزق)، پھر جب واپس آؤ عرفات سے تو ذکر کرو اللہ کا مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس اور ذکر کرو اس کا جس طرح اس نے تمھیں سکھایا اور اگرچہ تم اس سے پہلے گمراہوں میں سے تھے۔ پھر تم بھی (اے مغروران قریش) وہاں تک (جاکر) واپس آؤ جہاں جاکر دوسرے لوگ واپس آتے ہیں اور معافی مانگو اللہ سے، بے شک اللہ تعالی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔۱۹۸،۱۹۹)
امام رازی لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئی، جو یہ کہتے تھے کہ تاجروں، مزدروں اور ساربانوں کا کوئی حج نہیں، بلکہ اجازت دی کہ تم بے شک نفع کماؤ، لیکن ایسا نہ ہو کہ تم نفع کمانے میں ہی لگے رہو اور یہی تمہارا مقصد اولین ہوکر رہ جائے اور حقیقی مدعا یعنی ذکر الہی بھول جاؤ۔ حکم ہوتا ہے کہ جب عرفات میں حاضری کا فرض ادا کرکے وہاں سے چلو تو مزدلفہ میں اللہ کا ذکر کرو، اس کی تسبیح و تہلیل میں وقت صرف کرو۔ حاجی دسویں کی رات یہاں بسر کرتے ہیں۔ مشعر حرام اس مسجد کو کہتے ہیں جو وادی مزدلفہ کے ایک پہاڑ قزح پر ہے، جہاں امام قیام کرتا ہے۔ اگرچہ سارا مزدلفہ (ماسواء وادی محسر) موقف ہے، لیکن مشعر حرام اور اس کے قرب میں وقوف زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ قریش اپنے لئے ہتک سمجھتے تھے کہ دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی عرفات کے میدان میں وقوف کریں، اس لئے وہ مزدلفہ ہی میں ٹھہرتے اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے کہ ’’ہم اہل اللہ ہیں اور اس کے حرم کے باشندے ہیں‘‘۔ اللہ تعالی کو ان کی یہ مغرورانہ ادا پسند نہ آئی اور انھیں حکم دیا کہ جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں، وہاں سے تم بھی لوٹو، کیونکہ حج تو ہے ہی سب باطل امتیازات مٹانے کے لئے اور سب جھوٹے تفاخر ختم کرنے کے لئے۔

TOPPOPULARRECENT