Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / قصہ 300 کروڑ کا ! رائلسیما و تلنگانہ قائدین میں اُنسیت

قصہ 300 کروڑ کا ! رائلسیما و تلنگانہ قائدین میں اُنسیت

پولیس کی ہدایت کے بعد نوٹ منتقل ، مزید نوٹوں کی تبدیلی کیلئے زرعی راستہ زیر غور
کون ہے قائد تلنگانہ

حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کسی بھی پریشانی کا حل دولت مند ڈھونڈ ہی لیتے ہیں ۔ پریشانی تو عام آدمی کو ہوتی ہے ۔ سیاسی انجینئر سیاسی مخالفین صرف عوام کے دکھاوے کے لیے ہوتے ہیں بلکہ ذاتی مفاد کے لیے حالات کو موافق کرلیا جاتا ہے کہ اقتدار کا استعمال ہو یا پھر سرکاری مشنری کا استعمال ایسا ہی ان دنوں کٹر حلیف رائلسیما اور تلنگانہ ریاست کے قائدین کے درمیان ہوا ۔ کبھی ’ رائل ‘ علاقہ کے عہدیدار بچھڑنے کے بعد بھی رائل تعلقات بنائے ہوئے ہیں ۔ نوٹ بندی کے بعد کروڑہا روپئے کے انبار سے الجھن کا شکار تلنگانہ کے قائد کو رائلسیما کے قائد نے راحت فراہم کی اور راست 3 سو کروڑ روپئے کو بدل دیا ۔ اس کے لیے انہیں کوئی پریشانی بھی نہیں ہوئی چونکہ تلنگانہ کے ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار کا استعمال کرتے ہوئے یہ ساری کارروائی کو انجام دے دیا گیا اور کسی کو خبر تک نہیں ہوئی ۔ اطلاعات کے مطابق باضابطہ روپیہ کنٹنیرس میں منتقل کیا گیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار نے عوام کی پریشانی کو بنیاد بناکر تلاشی مہم کو کچھ وقت تک بند کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اسی دوران سارے معاملات کی یکسوئی کرلی گئی کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کے بعد الجھن و پریشانی کا شکار تلنگانہ کے اثر دار قائد اپنے خزانوں میں رکھے ہوئے نوٹوں کے انبار سے کافی فکر مند تھے کہ ان کی ملاقات رائلسیما کے سیاسی لیڈر سے ہوگئی اور کرنسی بدل گئی ۔ اور اس ملاقات میں ہی منصوبہ سازی کرلی گئی کہ آیا کس طرح سے کس مقام پر معاملات انجام دئیے جائیں ۔ تاہم اب حالیہ دنوں حکومت کے اعلان کے بعد سے جہاں عام آدمی اور چھوٹے کاروباری پریشان ہیں ۔ اب ان بڑے دولت مند اور سیاسی قائدین کو ایک اور ہتھیار حاصل ہوچکا ہے ۔ مرکزی نے اپنے تازہ فیصلے میں کسانوں کو راحت فراہم کرتے ہوئے بیجوں کی خرید کیلئے پرانی کرنسی کے چلن کی اجازت دی تو اس سے چاندی بنانے میں سیاسی قائدین جٹ گئے ہیں ۔ سمجھا جاتا ہے کہ اب پرائمری اگریکلچرل مارکیٹنگ کمیٹیوں کا سہارا لیا جائے گا اور قدیم نوٹوں کو نئے نوٹوں میں بدلنے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سیاسی قائدین کے یہاں بہت زیادہ کالا دھن پایا جاتا ہے اور اس کالے دھن کو بدلنے زرعی راستہ کو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ زر کیلئے زراعت کا استعمال سیاسی رسہ کشی اور معاملات سب کچھ مفادات کیلئے آخر کار بدل ہی جاتا ہے جو اب پیسہ بدلنے میں کام آرہا ہے ۔ یاد رہے کہ تشکیل تلنگانہ سے قبل جاری تحریک کے دوران رائلسیما علاقہ کو شامل کرکے رائل تلنگانہ کا نعرہ بلند کیا گیا تھا اور اس نعرہ کی تلنگانہ کے قائد نے بھی حمایت کی تھی اور بات اس وقت تو نہیں بنی لیکن تعلقات اب کام میں آگئے اور 300 کروڑ بھی بدل گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT