Tuesday , September 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / قطب الدعوۃ والارشاد سیدنا الامام الحبیب عبداﷲ بن علوی الحدادؓ

قطب الدعوۃ والارشاد سیدنا الامام الحبیب عبداﷲ بن علوی الحدادؓ

حبیب سہیل بن سعید العیدروس
نام ونسب: آپ امام الحبیب عبداﷲ بن علوی بن محمد بن احمد بن عبداﷲ بن محمد بن علوی بن احمد بن ابوبکر بن احمد بن محمد بن عبداﷲ بن احمد بن عبدالرحمن بن علوی ( عم الفقیہ المقدم) بن محمد صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد صاحب الصومعہ بن علوی بن عبیداﷲ صاحب العرض بن امام المھاجر الی اﷲ احمد بن عیسیٰ الرومی بن محمد النقیب بن علی العریضی بن امام جعفر الصادق بن امام محمد الباقر بن امام علی زین العابدین بن امام الشھید حسین السبط بن امام علی بن ابوطالب و فاطمۃ الزہرا بنت الرسول سیدنا محمد خاتم النبین صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم ۔
اسم گرامی حبیب عبداﷲ بن علوی الحداد ہے ۔ الحداد اپنے جد کریم کی نسبت سے لکھتے تھے کیونکہ آپ کے جد کریم سید احمد بن ابوبکر اپنا بیشتر وقت لوہار کی دوکان پر گذارتے تھے جس کی وجہ سے لوگ آپ کو بھی حداد ( لوہار) پکارتے تھے ۔

حالات زندگی : امام الحداد ۱۰۴۴ہجری کو دوشنبہ یا جمعرات کے روز شہر تریم کے قریب بستی سُبیر ، یمن میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی عمر صرف ۴سال تھی کہ آپ کی آنکھوں کی روشنی گم ہوگئی اور آپ نابینا ہوگئے لیکن اﷲ تعالیٰ کو اس بچے سے کچھ اور ہی کام لینا تھا اس لئے آپ کی ظاہری آنکھ تو بند ہوگئی لیکن باطنی آنکھ یوں روشن ہوئی کہ سارا عالم آپ کی نظر سے دیکھنے لگا ۔ آپ کے والد گرامی نے آپ کو علم کی رغبت دلائی اور کمسنی ہی میں حافظ قرآن ہوگئے اور کئی اسلامی کتب کو یاد کرلیا تھا اور پھر یمن کے بڑے بڑے شیوخ کے پاس زانوئے تلمذ طئے فرمایا جن میں حبیب عبداﷲ بن احمد بلفقیہ ؒ ، حبیب عمر بن عبدالرحمن العطاسؒ اور حبیب محمد بن علوی السقافؒ تھے ۔
امام الحداد کو ایک خط کے ساتھ حبیب محمد السقاف کے پاس مکۃ المکرمہ روانہ کیا گیا تاکہ آپ مزید علوم حاصل کرسکیں ۔ علم حاصل کرتے کرتے اتنی گہرائی کو پہنچ گئے کہ آپ مجتہد کے مقام کے حامل ہوگئے تھے ۔ آپؓ کو علم سے بہت محبت تھی اور آپ کثرت سے عبادت و مجاہدات بھی فرماتے تھے ۔ آپ کے بچپن میں جب آپؓ فجر کے بعد اذکار سے فارغ ہوکر دو سو (۲۰۰) رکعات نوافل مسجد باعلوی یا دیگر مساجد میں ادا فرمایا کرتے تھے ۔ آپ کا پورا دن عبادات کی کثرت اور اذکار کی حلاوت میں مزین رہتا جوکہ تہجد سے شروع ہوکر نصف رات تک چلتا رہتا اور اس خوبی کے ساتھ کے گھریلو کام ، تدریسی خدمات اور دیگر ذمہ داریاں بھی بدرجۂ کمال ادا ہوتیں ۔

آپؓ نے کئی اذکار بھی مرتب فرمائے جن میں مشہور راتب الحداد اور الورد الطیف ہے جوکہ سالک کو روحانی خوراک عطا کرتا ہے۔ آپؓ کو سورۂ یٰسین سے بہت لگاؤ تھا اور کثرت سے یٰسین تلاوت بھی کرتے اور سماعت بھی اور انھیں یٰسین کے خاص رموز و اسرار بھی عطا کئے گئے تھے ۔ آپؓ سورۂ یٰسین کی تلاوت کے بعد جو دعا فرمایا کرتے تھے وہ آج تک کروڑوں عقیدت مندوں کی زبان پر جاری ہے ۔ حضور سیدنا رسول اﷲ ﷺ کی اجازت و حکم سے آپؓ نے لوگوں کو اﷲ کی طرف بلانا اور راہِ سلوک و معرفت پر گامزن کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ قطب الدعوۃ والارشاد کے نام سے ملقب ہوئے ۔ آپ کے مریدین کی تعداد بہت کم تھی جنھیں آپ خصوصی روحانی توجہات عنایت فرماتے تھے ۔ آپ علماء سے فرمایا کرتے کہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل کیا کریں اور خود داعی اسلام بننے کی کوشش کریں۔ آپ باشاہ امراء اور عام رعایا سب کو برابر سمجھتے تھے اور یکساں دیکھتے تھے ۔ آپؓ نے ماہِ رجب سے مولدالنبی کی مجلس کا اہتمام فرمانا شروع کیا اور جتنے لوگ اس میں شریک ہوتے سب کو اتنا کھلاتے کے شکم سیر ہوکر گھر لوٹتے اور اس پر فرماتے تھے کہ اگر لوگ ہمارے اقوال و ارشادات کو دل میں نہیں اُتارتے اور اس سے نفع حاصل نہیں کرتے تو ہم برکات کو رزق کے ذریعہ اُتاریں گے ۔
امام الحداد نے اپنے علم و اسرار کو اپنی شاعری میں ڈھال کر پورا دیوان تحریر فرمایا جوکہ لوگوں کو دعوت الی اﷲ کا ذریعہ ہے ۔ خود آپؓ نے فرمایا کہ جس کے پاس میرا دیوان ہے اُسے کوئی مزید کتابوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کی شاعری اُن طریقت کے اسرار کو بیان کرتی ہے جو سوائے سالکین کے کوئی دوسرا سمجھنا دشوار ہے۔ آپ کے دیوان کو آپؓ کی زندگی ہی میں آپؓ کے شاگرد خاص حبیب احمد بن زین الحبشی نے مکمل تشریحات کے ساتھ بیان فرمادیا تھا ۔ آپؓ کی شاعری کی مقبولیت اس حد تک پہونچ گئی کہ آپؓ کے دیوان کا ایک شعر مسجد نبویؐ کی اس دیوار پر کندہ کیا گیا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے روضۂ اقدس میں واقع ہے ۔ وہ شعر یہ ہے؎
نبی عظیم خلقہ الخلق الذی
لہ عظم الرحمن فی سید الکتب
ترجمہ : ایک باعظمت نبی جن کے اخلاق ایسے عظیم ہیں کہ جن کو اﷲ تعالیٰ نے اس کتاب ( قرآن) میں ذکر فرمایا جو تمام کتب کی سردار ہے ۔

امام الحداد کی جملہ کتب آج بھی لوگوں کو زندگی اور روشنی فراہم کررہی ہیں ۔
امام الحداد معاشرے کے ہر معاملے میں شامل رہتے اور سلاطین وقت کو خطوط لکھ کر قومی حالات اور قرآن و سنت کے قوانین کے خلاف عمل آوری پر خبردار بھی کیا کرتے اور فرماتے کے توبہ کے ذریعہ واپس رجوع الی اﷲ کرو ۔ اس کے علاوہ آپ حکومتی اُمور میں سلاطین کی رہنمائی بھی فرماتے اور مختلف قبائل میں آپسی دشمنی کو ختم کروانے کیلئے اقدامات بھی تجویز فرماتے تھے ۔
امام الحدادؓ کی ہمیشہ یہی دعا رہتی کہ اﷲ تعالیٰ حضورؐ کی اتباع سنت و پیروی میں مزید مضبوطی عطا فرمائے اور آپؓ نے بڑھاپے میں اپنے بال کو بڑھالیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ ایسی ایک بھی سنت نہیں بچی جو حضور اکرم ﷺ سے ثابت ہے اور میں نے اس پر عمل نہ کیا ہو ۔
امام الحداد کے بارے میں حبیب علی الحبشی نے فرمایا   ؎
فجمع من سلک الطریقۃ بعدہ
مستصبحون بنورہ الوقاد
قرت بہ عین النبی محمد
فھولہ من احسن الاولاد
ترجمہ : وہ لوگ جنھوں نے حضورؐ کے بعد آپ کا طریقہ احتیار کیا ، انھیں حضورؐ ہی کے نور متجلیٰ سے روشنی و ہدایت عطا ہوئی اور وہ ( امام الحداد ) سیدنا محمد نبی اﷲ ﷺ کے آنکھ کی ٹھنڈک تھے اور وہ حضورؐ کی اولاد میں سب سے بہترین تھے ۔
آپؓ کا وصال : اس بات میں کوئی شک اور حیرانی نہیں کہ آپؓ بارہویں صدی ہجری کے مجدد تھے ۔ آپؓ نے تقریباً اٹھاسی (۸۸) سال کی عمر پائی اور ۸ذوالقعدہ ۱۱۳۲ھ کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنی تعلیمات ، کتب و اسرار کے ذریعہ اپنے محبین کے قلوب میں حیات جاودانی پاگئے ۔ آپؓ کا مزار مبارک زنبل نامی قبرستان ، تریم ، یمن میں واقع ہے ۔ اﷲ تعالیٰ آپؓ پر رحم فرمائے اور تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

TOPPOPULARRECENT