Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کی تاریخ کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ

قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کی تاریخ کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ

مزار قلی قطب شاہ پر چادر گل کی پیشکشی ، کیپٹن پانڈو رنگاریڈی و ڈاکٹر کے چرنجیوی کا میڈیا سے خطاب
حیدرآباد۔4اپریل(سیاست نیوز)قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوںکی تاریخ کو ریاست کے تعلیمی نصاب میںشامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حیدرآبادڈیموکرٹیک وسکیولر الائنس کے قائدین نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے حکمرانوں کو ریاست حیدرآباد کی تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج یہاں گنبدان قطب شاہی میں انگریزی کیلنڈر کی مناسبت سے بانی شہر حیدرآباد و تاریخی چارمینار کے معمار سلطان محمد قلی قطب شاہ کی 451ویںیوم پیدائش کے موقع پر مزار قلی قطب شاہ پر چادر گل پیش کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممتازمورخ ودانشوار کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگاریڈی نے کہاکہ نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست حیدرآباد بالخصوص علاقہ تلنگانہ کے محبان قطب شاہی وآصف جاہی حکمرانوں کو کافی امیدیں وابستہ تھیں مگر 22ماہ کا طویل عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ریاستی حکومت نے قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کی حقیقی تاریخ کا احیاء عمل میںلانے کے اقدامات نہیں کیے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست حیدرآباد اور علاقے تلنگانہ سے جن کا کوئی تعلق نہیں ہے ان کے مجسمے شہر کے بیچوں بیچ نصب کردئے گئے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے اصل وارث قطب شاہی ہیںحکمران ہیں جنھوں نے ناصرف حیدرآباد کو آباد کیا بلکہ شہر کو ترقی کے تمام راستے بھی فراہم کئے۔کیپٹن رنگاریڈی نے شہر حیدرآباد کے بانیوں اور وارثوں کے مجسمے شہر کے مختلف مقامات پر نصب کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شمس آباد ائیرپورٹ کے راستے پر سلطان محمد قلی قطب شاہ کا 118فٹ بلند کانسے کا مجسمہ نصب کرتے ہوئے وہاں پر ڈیزنی لینڈ کے طرز پر پارک کا قیام عمل لایا جائے ۔ اس کے علاوہ شہر کے بیچوں بیچ میں آصف جاہ صابع کا بھی مجسمہ نصب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو جامعہ عثمانیہ شامل کرنے اور ایمبلم کا احیاء عمل میںلانے کی چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائوسے اپیل کی ۔ڈاکٹر کولیرو چرنجیوی نے کہاکہ پچھلے سال بھی حیدرآباد ڈیموکرٹیک اینڈ سکیولر الائنس کی جانب سے سلطان محمد قلی قطب شاہ کی یوم پیدائش کے موقع پر تقریب منعقد کی گئی تھی اور قلی قطب شاہ کا مجسمہ نصب کرنے کی حکومت سے اپیل بھی کی گئی تھی جس پر ایک سال گذر جانے کے بعد بھی عمل آواری نہیں ہوئی ہے ۔ڈاکٹر چرنجیوی نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور ٹی آر ایس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد تلنگانہ کی عوام کو قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کی تاریخ کے احیاء کے متعلق جو امیدیں وابستہ تھیں اس پر موثر انداز میں عمل آواری ندارد ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اس ضمن میں حیدرآباد ڈیموکرٹیک اینڈ سکیولر الائنس ایک کمیٹی تشکیل عمل میںلارہی ہے جو ہرسال سلطان محمد قلی قطب شاہ اور آصف جاہ صابع عثمان علی خان بہادر کا یوم پیدائش و یوم وفات کے موقع پر تقاریب کا انعقادعمل میںلائے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ کام حکومت کا مگر حکومت کی قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں سے بیزارگی ہمیں اس اقدام کے لئے مجبور کررہی ہے ۔ گنبدان قطب شاہی کی تزائن نو کے امور انجام دینے والے آغاخان ٹرسٹ کے ڈائرکٹر کے کے محمد نے بتایا کہ قطب شاہیوں کی ایک ہزار سالہ تاریخ ہے جس کو عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری آغاخان ٹرسٹ نے اٹھائی ہے ۔ ایک سو کروڑ کے بجٹ کے ذریعہ گنبدان قطب شاہی کی تزائن نو عمل میںلاتے ہوئے آئندہ پانچ سو سالوں تک گنبدان قطب شاہی کو تحفظ فراہم کیاجارہا ہے۔ کے کے محمد نے کہاکہ ہندوستان بھر میں قطب شاہی اور مغلیہ دور حکومت کے فن تعمیرات کی تزائن نو کا اعزاز آغاخان ٹرسٹ کو ہی حاصل ہے ۔ محکمہ اسٹیٹ ارکیالوجی کے سابق عہدیدار محمدآیاز خان‘ حیات حسین حبیب‘تنظیم آواز قائد محمد علی‘سید مراد الدین کے علاوہ دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT