Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / قطر پر دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی کا الزام : ٹرمپ

قطر پر دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی کا الزام : ٹرمپ

نفرت کی تعلیم اور ہلاکتیں بند کی جائیں، سعودی اور دیگر خلیجی ممالک کے اقدام کی عملاً تائید
واشنگٹن۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) قطر اور پڑوسی ممالک کے مابین انتہائی پیچیدہ سفارتی تعطل کے دوران صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے دوحہ کو دہشت گردی کو فنڈس فراہم کرنے کی تاریخ رکھنے والا ملک قرار دیا۔ انہوں نے اس خلیجی ملک سے ’’نفرت‘‘ پھیلانے کا سلسلہ روکنے پر زور دیا۔ آج وائیٹ ہاوز کے روز گارڈن میں دورہ کنندہ صدر رومانیہ کلاز جوہانس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے قطر سے کہا کہ وہ دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی کا سلسلہ بند کرے۔ نفرت پھیلانا بند کرے، ہلاکتیں بند کرے۔ ٹرمپ نے انتہائی سخت الفاظ میں قطر پر دہشت گردوں کو کافی زیادہ فنڈس کی فراہمی کا الزام عائد کیا اور دیگر ممالک سے بھی خواہش کی ہے کہ وہ بھی قطر کے ساتھ اپنے روابط ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ قطر کی افسوسناک طور پر یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ انتہائی اعلیٰ سطح پر دہشت گردی کو فنڈس فراہم کررہا ہے۔ اس تناظر میں دیگر ممالک کو چاہئے کہ متحد ہوکر قطر کے طرز عمل کے خلاف آواز اٹھائیں اور محاذ آراء ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہے، ہم آسان راستہ اختیار کریں یا ایک ایسا کٹھن راستہ اپنائیں جو ناگزیر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی کو روکنا ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن اور ہمارے عظیم جنرلس اور فوج کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا ہے دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی روکی جائے۔ اب وقت آچکا ہے کہ قطر سے یہ کہا جائے کہ وہ دہشت گردوں کو فنڈس فراہم کرنا بند کرے، اسے یہ کام کرنا ہی ہوگا، اس کے علاوہ انتہا پسندانہ نظریات کو بھی ختم کرے۔

وہ تمام دیگر ممالک سے بھی خواہش کریں گے کہ فوری دہشت گردی کی تائید بند کریں۔ عوام کو ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کی تعلیم روکیں۔ عوام کے ذہنوں کو نفرت اور عدم رواداری سے بھرنے کی کوشش بند کریں۔ وہ کسی اور ملک کا نام لینا نہیں چاہتے لیکن ہمیں ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اس کے لئے ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ٹرمپ کا یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور اس کے علاقائی حلیف ممالک سے اپیل کی تھی کہ قطر کیلئے عائد کردہ رکاوٹوں کو آسان کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور حلیف ممالک کے فیصلہ سے علاقہ میں امریکی فوجی کارروائیوں اور آئی ایس کے خلاف لڑائی میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوروپ اور مشرق وسطیٰ کے تاریخی دورہ سے واپس ہوئے ہیں جہاں انہوں نے حلیف ممالک کو مستحکم بنانے نئی دوستی پیدا کرنے اور سماج کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لئے متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوئی بھی شہری سماج اس طرح کے تشدد کو برداشت نہیں کرتا اور نفرت پر مبنی نظریات کو پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 50 سے زائد عرب اور مسلم قائدین کے ساتھ چوٹی اجلاس کو مخاطب کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا تاریخی اجلاس تھا جہاں تمام ممالک نے دہشت گردی کی خواہ وہ مالی، فوجی یا اخلاقی تائید ہو، روکنے سے اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ بحرین ، مصر ، سعودی عرب اور یو اے ای نے قطر سے سفارتی روابط منقطع کرلئے ہیں اور خلیج تعاون کونسل کے سابق حلیف پر انتہا پسند گروپس کی تائید کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوںنے اپنے دورہ کے موقع پر آئی ایس آئی ایس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو شکست پر زیادہ زور دیا ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ انہیں فنڈس کی فراہمی ، دہشت گردی کی تعلیم اور ہلاکتوں کا سلسلہ روکنا ہوگا۔ صدر امریکہ نے کہا کہ قطر سے وہ کہنا چاہیں گے کہ ذمہ دار ممالک کے اتحاد میں وہ واپس ہوسکتا ہے ، اس کے لئے اسے دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی روکنا ہوگا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حالیہ چوٹی اجلاس ،دہشت گردوں کو فنڈس کی فراہمی کا سلسلہ ختم ہونے کا نقطہ آغاز ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT